بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

فجر کی سنت کی قضا


سوال

اگر فجر کی سنت قضا ہو جائے اور سفر میں جانے کا ارادہ ہے اور سفر میں سہولت نہ ہونے کا اندیشہ ہو تو کیا فجر کی نماز کے بعد فوراً  سنت کی قضا کر سکتا ہے؟

جواب

سنتوں کی مستقل طور پر قضا نہیں ہے، البتہ فجر کی سنتوں کی تاکید کی وجہ سے یہ حکم ہے کہ جس دن فجر کی سنتیں تنہا یا فجر کی فرض نماز کے ساتھ رہ جائیں تو اشراق کا وقت ہوجانے کے بعد سے لے کر اسی دن زوال کے وقت تک فجر کی سنتیں ادا کی جاسکتی ہیں۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں فجر کی فرض نماز کے بعد اشراق کا وقت ہونے سے پہلے فجر کی سنتیں ادا کرنا درست نہیں ہے، اشراق کا وقت داخل ہونے کے بعد سے لے کر زوال تک اگر سفر کے دوران سنت ادا کرنے کا موقع مل جائے تو ادا کرلی جائیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200123

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں