بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

فجر کی اذان کے وقت کھانے پینے والے کے روزہ کا حکم


سوال

اگر کوئی شخص عین اذانِ فجرکےوقت جب کہ اذان اپنے وقت پہ دی گئی ہو کچھ کھاپی لےتو آیااس کاروزہ باقی رہتاہےیانہیں؟

جواب

سحری کا وقت صبح صادق تک ہے، اور صبح صادق کے بعد فجر کا وقت داخل ہوجاتا ہے، فجر کی اذان صبح صادق کے بعد  دی جاتی ہے، اس لیے اگر  اذان اپنے وقت پر دی گئی ہو تو اذان کے وقت کھانے ، پینے سے اس دن کا  روزہ نہیں ہوگا، بعد میں اس روزہ کی قضا کرنا لازم ہوگا، تاہم اس دن بھی غروب آفتاب تک  روزہ داروں کی مانند رہنا ضروری ہوگا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908201159

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں