بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کو ووٹ دینے کا حکم


سوال

ہمارے علاقے شہر میرپورخاص سندھ پاکستان میں ایک بڑی سیاسی جماعت نے عام انتخابات میں صوباِئی امیدوار اچھے مسلمان امیدوار کی موجودگی میں ایک غیر مسلم بت پرست ہریرام کشوری لال کومنتخب کیا ہے جب کہ قانونی طور پر اقلیت کی مخصوص نشست موجود ہیں. عوام یہ معلوم کرنا چاہتی ہے آیا اس صورتِ حال میں غیر مسلم کو ووٹ دینا شرعی اعتبار سے جائز ہےیاناجائز ہے یا کوئی تیسری صورت بھی موجود ہے؟

جواب

ووٹ ایسےامید وار  کو دینا چاہیے جو  خود بھی مطلوبہ اہلیت اور صلاحیت رکھتا ہو ،  اس کا جماعتی منشور بھی درست ہو  اور جس کے متعلق اطمینان ہو کہ وہ اہلِ محلہ کے لیے دینی و دنیوی لحاظ سے بہتر اقدامات کر سکتا ہے۔ اور غیر مسلم امیدوار چوں کہ ان شرائط پر پورا نہیں اترتا  ؛ اس لیے اُس کے مقابلہ میں کسی مسلمان امید وار کو ووٹ دینا  زیادہ بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201460

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے