بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 27 فروری 2020 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کا مسلمان کی طرف سے ایصالِ ثواب کے لیے قربانی کرنا


سوال

ایک غیر مسلم اپنی نو مسلم مرحوم پھوپھی کے لیے، پھوپھی کی جانب سے قربانی دینا چاہے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

غیر مسلم کی قربانی معتبر نہیں ہے،  اور اعمال کی قبولیت کے لیے ایمان پہلی اور بنیادی شرط ہے، اگر غیر مسلم کوئی نیک کام کرے تو اسے آخرت میں اس کا ثواب نہیں ملے گا، لہذا وہ کسی دوسرے  کو ثواب پہنچا بھی نہیں سکتا ؛  اس لیے  صورتِ مسئولہ میں  غیر مسلم اپنی نومسلم  مرحوم پھوپھی کی طرف سے قربانی کرے تو  شرعاً یہ قربانی معتبر نہیں ہے، اس کا ثواب مرحومہ کو نہیں ملے گا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 312)
'' وشرعاً: (ذبح حيوان مخصوص بنية القربة في وقت مخصوص. وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به''۔

وفیه أیضاً (6/ 326)
''من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه: من التصدق، والأكل، والأجر للميت، والملك للذابح''. 

شرح النووي على مسلم (3/ 87)
''معنى هذا الحديث أن ما كان يفعله من الصلة والإطعام ووجوه المكارم لا ينفعه في الآخرة؛ لكونه كافراً وهو معنى قوله صلى الله عليه وسلم: لم يقل: رب اغفر لي خطيئتي يوم الدين أي لم يكن مصدقاً بالبعث ومن لم يصدق به كافر، ولا ينفعه عمل، قال القاضي عياض رحمه الله تعالى: وقد انعقد الإجماع على أن الكفار لا تنفعهم أعمالهم ولا يثابون عليها بنعيم ولا تخفيف عذاب''۔

الفتاوى الهندية (5/ 304)
'' وإن كان كل واحد منهم صبياً أو كان شريك السبع من يريد اللحم أو كان نصرانياً ونحو ذلك لا يجوز للآخرين أيضاً، كذا في السراجية. ولو كان أحد الشركاء ذمياً كتابياً أو غير كتابي وهو يريد اللحم أو يريد القربة في دينه لم يجزئهم عندنا؛ لأن الكافر لا يتحقق منه القربة، فكانت نيته ملحقةً بالعدم، فكأنه يريد اللحم، والمسلم لو أراد اللحم لا يجوز عندنا''۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909201877

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے