بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غیر حاجی کو رمی کے لیے نائب بنانا


سوال

 حاجی رمی جمرات کے لیے کسی ایسے شخص کو نائب مقرر کر سکتا ہے جو خود اس وقت حج نہ کر رہا ہو؟

جواب

جو شخص کھڑے ہوکر نماز پڑھنے پر قادر نہیں یا جمرات تک پیدل یا سوار ہوکر آنے میں سخت تکلیف ہو یا مرض بڑھ جانے کا قوی اندیشہ ہو  تو ایسے مریض ، کم زور ، بوڑھے اور اپاہج وغیرہ کی طرف سے رمی کی نیابت جائز ہے۔نائب کے لیے کتب میں عبارات مطلق ہیں اورحاجی کی قید اس میں نہیں ہے،  جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نائب کے لیے یہ ضروری  نہیں ہے کہ وہ حج کررہا ہو۔  تاہم یہ مسئلہ مزید  بھی زیر تحقیق ہے۔کچھ عرصہ بعد دوبار دریافت کرلیجیے گا۔

"السادس: أن یرمي بنفسه، فلاتجوز النیابة فیه عند القدرة. و الرجل و المرأة في الرمي سواء، إلا أن رمیها في اللیل أفضل، فلاتجوز النیابة عن المرأة بغیر عذر. وتجوز عند العذر، فلو رمی عن مریض بأمره أو مغمی علیه و لو بغیر أمره أو صبي أو معتوه أو مجنون جاز. والأولی أن یرمي السبعة أولاً عن نفسه، ثم عن غیره. و لو رمی بحصاتین إحداهما عن نفسه والأخری من غیره جاز، ویکره". (غنیة الناسك،ص:۲۴۳، فصل في شرائط الرمي) فقط  واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200702

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے