بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غیر آباد مندر یا گرجا کو مسجد یا مدرسہ بنانا


سوال

 ہرنائی صوبہ بلوچستان کے ایک ضلعہ ہے اس ضلعہ میں ہندوں لوگوں کی عبادت خانہ تھا اب بالکل ویران ہے وہ لوگ بھی موجود نہیں جن لوگوں نے اس کو بنایا تھا اور نہ ان کا کوئی وارث موجود ہے البتہ دوسرے ہندوں موجودہے اور یہ عبادت خانہ مسجد ومدرسہ کے قریب ہے۔ آیا اب ہندوں کو دوبارہ اس کی آباد کر نے کی اجازت ہے ؟ یا مسلمان اس کو روکےاور خود زمین پر مسجد یامدرسہ بنائیں ۔ ؟ اسی طرح عیسائیوں کا بھی ایک عبادت خانہ ہے وہ بھی مسجد ومدرسہ کے قریب ہے یہ بھی بالکل ویران ہے اور نہ ان کا کوئی وارث ہے ۔ آیا اب غیر مسلم اس کوآباد کر سکتے ہیں ؟ یایہ مسلمانوں کاہے ؟ ۔ ازروئے شریعت کیا حکم ہے ۔؟ مفصل اورمدلل تحریر فرماکر ممنون فرمائیں ۔

جواب

 

صورت مسٗولہ میں ہندووٗں اور عیسائیوں کے ذکر کردہ مندر اور گرجا گھر  ان کے مالکان،(ذمہ داران) سے یا علاقہ میں  موجود ہندووٗں  اور عیسائیوں سے خرید کر یا ان سے اجازت لے کر اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں، نیز اگر علاقہ میں موجود ہندو اور عیسائی اپنی ان عبادت گاہوں کو اپنے استعمال میں رکھنا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

دلائل ملاحظہ ہوں: قال اللہ تعالی : ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع وبیع وصلوات ومساجد  یذکر فیھا اسم اللہ کثیرا (الحج :۴۰) قال الجصاص تحت ھذہ الایۃ : قال ابوبکر فی ھذہ الایۃ دلیل علی ان ھذہ المواضع المذکورۃ لایجوز ان تھدم علی من کان لہ ذمۃ اوعھد من الکفار وقال محمد بن الحسن فی ارض الصلح اذا صارت مصرا للمسملین لم یھدم فیہا  من بیعۃ او کنیسۃ او بیت نار  (احکام القران للجصاص، ۳ص: ۲۴۶)

وفی الشامیۃ : واعلم ان البیع والکنائس القدیمۃ فی السواد لاتھدم علی الرویات کلھا وقال بعد اسطر الکنائس الموضوعۃ الآن فی دار السلام غیر جزیرۃ العرب کلہا ینبغی الا تھدم لانھا ان کانت فی المصار قدیمۃ فلاشک ان الصحابۃ او التابعین حین فتحوا المدینۃ علمو ا بھا وبقوھاالخ (شامی، جلد ۴، ص: ۲۰۶) فقط واللہ اعلم  


فتوی نمبر : 143701200051

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے