بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

نمازی کے سامنے سے عورت کا گزرنا


سوال

نمازی کے سامنے سے اگر عورت گزرجائے تو کیااس سے نماز ٹوٹ جائے گی؟

جواب

نمازی کے سامنے سے اگرعورت گزر جائے تو اس سے نمازی کی نماز فاسد نہیں ہوتی ۔البتہ جان بوجھ کر نمازی کے سامنے سے گزرنا (خواہ گزرنے والا مرد ہو یا عورت) سخت گناہ ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے :

"والدليل على أن مرور المرأة لايقطع الصلاة ما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلى في بيت أم سلمة فأراد عمر بن أبي سلمة أن يمر بين يديه فأشار عليه فوقف ثم أرادت زينب أن تمر بين يديه فأشار عليها فلم تقف فلما فرغ من صلاته قال: "هن أغلب صاحبات يوسف يغلبن الكرام ويغلبهن اللئام". (1/350،ط:دارالفکر)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200582

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے