بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الثانی 1441ھ- 16 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غصہ کی حالت میں بیوی کو بیٹا کھنا


سوال

اگر کسی نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں بیٹا بول دیا تو نکاح پر اس کا اثر ہوگا یا نہیں؟

جواب

مذکورہ الفاظ بیوی کو کہنے سے نکاح  پر کوئی اثر نہیں پڑا ، نکاح برقرار ہے  ،بیوی" کو "بیٹا" کہنا لغو کام ہے اور مکروہ ہے، اس سے احتراز کرنا لازم ہے ۔

کذا فی الشامی: 

" ويكره قوله: أنت أمي ويا ابنتي ويا أختي ونحوه''. (الدر المختار مع الرد، باب الظهار (3/470) ط: سعید)

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے : 

'' بیوی کو بیٹا کہنا لغو اور بیہودہ حرکت ہے، مگر اس سے نکاح نہیں ٹوٹا'' ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل، باب الظہار (6/670) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200560

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے