بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 ربیع الثانی 1441ھ- 09 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غصہ میں بیوی کو تین طلاق دینا


سوال

میں نے شدید غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو تین طلاق دی ہیں، جس کے گواہ میرے تینوں بیٹے ہیں، شرعی لحاظ سے بتائیں کیا حکم ہے؟

جواب

طلاق عموماً  غصہ کی ہی حالت میں دی جاتی، لہذا صورتِ  مسئولہ میں غصہ کی حالت میں دی گئی تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، آپ پر آپ کی بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، رجوع جائز نہیں اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی جائز نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200193

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے