بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غسل کی دعائیں اور اس کا طریقہ

سوال

غسل  کی  جو  دعائیں حدیثِ صحیح  سے ثابت ہوں، اس سے بندۂ عاجز کے علم میں اضافہ فرمائیں!

جواب

غسل کے  لیے مستقل کوئی دعائیں تو منقول نہیں ہیں، البتہ غسل کرنے میں اس کے مسنون طریقہ کا اہتمام کرنا چاہیے وہ یہ ہے  کہ پہلے استنجا  کیاجائے، پھرجسم کے کسی حصہ پراگرنجاست لگی ہوتواسے صاف کیاجائے، پھر مکمل وضوکیاجائے، اس کے بعدپورے  بدن پر پانی اس ترتیب سے بہائے کہ پہلے سرپر، پھردائیں کندھے پر،پھربائیں کندھے پر،پھرسارے جسم پر۔

غسل کے تین فرائض ہیں،کلی کرنا،ناک کے نرم حصے سے سخت حصے تک پانی پہنچانا،سارے بدن پرپانی بہانا۔ نیز غسل کرنے والے کو چاہیے کہ جس سبب سے غسل کر رہا ہے اس کی نیت بھی کر لے۔

نهاية الزين شرح قرة العين (1/ 47):
"ومن أراد غسلاً مسنوناً نوى به السبب: كأن ينوي الغسل المسنون للجمعة أو للعيد". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201261
تاریخ15-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں