بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 جُمادى الأولى 1441ھ- 23 جنوری 2020 ء

دارالافتاء

 

غسل فرض ہونے کے اسباب


سوال

نواقضِ غسل کیا ہیں؟

جواب

درج ذیل اسباب میں سے کسی سبب کے پیش آنے کی وجہ سے غسل فرض ہو جاتا ہے:

1۔ احتلام، (سوتے ہوئے منی خارج ہونا)۔

2۔ شہوت کے ساتھ منی کا نکلنا، (خواہ از خود نکلے یا نکالی جائے)۔

3۔ بیوی کے ساتھ صحبت کرنا۔ (مرد کی شرم گاہ کا عورت کی شرم گاہ میں داخل ہوجانا)

4۔ عورت کا حیض سے پاک ہوجانا۔

5۔ عورت کا نفاس سے پاک ہوجانا۔

مذکورہ اسباب ایسے ہیں جن کے پائے جاتے ہی سابق غسل ختم ہوجاتاہے، البتہ دیگر تین اسباب اور حیض و نفاس میں یہ فرق ہے کہ دیگر تین اسباب سے سابق غسل ختم ہونے کے ساتھ جدید غسل فرض ہوجاتاہے۔ جب کہ حیض یا نفاس کے پائے جانے سے سابق غسل تو ختم ہوجاتاہے، لیکن جدیدغسل اس وقت فرض ہوتاہے جب عورت حیض یا نفاس سے پاک ہوجائے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200798

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے