بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

غزوہ اور معرکہ میں فرق


سوال

حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال 11ھ کو ہوا اور غزوہ قادسیہ اور یرموک 15 ھ کو ہوئی ہیں حالانکہ ہم نے اہل علم سے سنا ہے کہ غزوہ کی تعریف ہے کہ وہ جنگ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفس نفیس شرکت فرمائی ہو تو غزوہ قادسیہ وغیرہ پر غزوہ کی تعریف کیسے صادق آتی ہے، مدلل جواب سے مستفیذ فرمائیں؟

جواب

سیرت کی کتابوں میں عام اسلوب یہی ہے کہ جس معرکہ میں نبی کریمﷺ بنفسِ نفیس شریک ہوئے ہوں اسے ’’غزوہ‘‘  کہتے ہیں، لیکن غزوہ  کی یہ اصطلاح اور تعریف کسی حدیث یا نص کی بنیاد پر متعین نہیں ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود اپنی زندگی میں جن جنگوں میں شرکت فرمائی انہیں غزوہ کا نام دیا اور جن لشکروں میں آپ ﷺ بنفسِ نفیس تشریف نہیں لے گئے انہیں آپ ﷺ نے سریہ کا نام دیا ہو،  اگر ایسا ہوتا تو سوال درست ہوتا کہ اسے غزوہ کیوں کہا گیا!

لغت کے اعتبار سے بھی یہ لفظ عام ہے، اسی سے غازی کا لفظ ہے، جو جہاد و جنگ میں شریک ہر شخص کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔

 غزوہ اور سریہ کی مشہور اصطلاح بعد کے عرف میں طے ہوئی ہے، اور اصطلاحات میں ایسا ہوتاہے کہ  کبھی وہ اپنے مشہور معنیٰ میں استعمال نہیں ہوتیں، چناں چہ ’’غزوہ ‘‘  کے استعمال میں بھی یہ قاعدہ، قاعدہ کلیہ نہیں ہے، جیسا کہ ’’غزوہ موتہ‘‘ کے لیے بھی ’’غزوہ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے حال آں کہ نبی کریمﷺ خود اس معرکہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

لہذا  اولاً تو اس کو جنگ قادسیہ اور معرکہ قادسیہ کے نام سے ان معرکوں کو زیادہ ذکر کیا جاتا ہے، البتہ اگر کسی جگہ  ان کو غزوہ کہا گیا ہو تو اس کی وجہ یہی  ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیرت کی عام کتابوں میں اگرچہ ’’غزوہ‘‘  سے مراد وہ لشکر ہوتاہے جس میں رسول اللہ ﷺ بنفسِ نفیس تشریف لے گئے ہوں، لیکن کتبِ  سیرت  اور تاریخ میں ہی بعض اوقات ’’غزوہ‘‘ کا اطلاق ان لشکروں پر بھی ہوا ہے جن میں رسول اللہ ﷺ بنفسِ نفیس تشریف نہیں لے گئے، (جیسے غزوہ موتہ کا ذکر ہوچکا) چناں چہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’’صحیح بخاری‘‘  میں ’’کتاب المغازی‘‘ کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں کہ ’’مغازی‘‘  سے مراد یہاں ان لشکروں کی تشکیل ہے جو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کفار کی طرف بھیجے گئے، خواہ آپ ﷺ بنفسِ نفیس تشریف لے گئے یا آپ ﷺ نے کوئی لشکر بھیج دیا۔

فتح الباري لابن حجر (7 / 279):

"والمغازي جمع مغزى، يقال: غزا يغزو غزواً ومغزىً، والأصل غزوا والواحدة غزوة وغزاة والميم زائدة، وعن ثعلب: الغزوة المرة والغزاة عمل سنة كاملة، وأصل الغزو القصد، ومغزى الكلام: مقصده، والمراد بالمغازي هنا ما وقع من قصد النبي صلى الله عليه وسلم الكفار بنفسه أو بجيش من قبله".

سنن النسائي (6 / 42):

" عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْهِنْدِ، فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أُنْفِقْ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي، فَإِنْ أُقْتَلْ كُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ أَرْجِعْ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ»".

الفتن لنعيم بن حماد (1 / 409):

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْهِنْدِ، فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أَنْفَقْتُ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي، فَإِنِ اسْتُشْهِدْتُ كُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرِّرُ»".

مسند أحمد مخرجاً (12 / 28):

"عن أبي هريرة، قال: «وعدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة الهند فإن استشهدت كنت من خير الشهداء، وإن رجعت، فأنا أبو هريرة المحرر»". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144105200204

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں