بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شعبان 1441ھ- 08 اپریل 2020 ء

دارالافتاء

 

غرارہ اور ناک کی ہڈی تک پانی پہچانا/سنن اور نوافل کے قعدہ میں تشہد کا حکم


سوال

 1- فرض غسل میں منہ اور ناک میں پانی ڈالنا کس حد تک ہے؟ کیا صرف کلی کرنا کافی ہے یا غرارہ کرنا اور اسی طرح ناک میں پانی ڈالنا نرم ہڈی تک؟

2- نفل اور سنتِ مؤکدہ اور سنتِ غیر مؤکدہ میں دوسری رکعت میں التحیات آخر تک پڑھنا ضروری ہے یا صرف اشھد تک؟

جواب

1- فرض غسل میں منہ بھر کر کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا کافی ہے، البتہ غیر روزہ دار کے لیے غرارہ کرنا  اور  ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا سنت ہے۔ 

قال في الدر:

"(وَغَسْلُ الْفَمِ) أَيْ اسْتِيعَابُهُ، وَلِذَا عَبَّرَ بِالْغَسْلِ، أَوْ لِلِاخْتِصَارِ (بِمِيَاهٍ) ثَلَاثَةٌ (وَالْأَنْفِ) بِبُلُوغِ الْمَاءِ الْمَارِنِ (بِمِيَاهٍ) وَهُمَا سُنَّتَانِ مُؤَكَّدَتَانِ مُشْتَمِلَتَانِ عَلَى سُنَنٍ خَمْسٍ: التَّرْتِيبُ، وَالتَّثْلِيثُ، وَتَجْدِيدُ الْمَاءِ، وَفِعْلُهُمَا بِالْيُمْنَى (وَالْمُبَالَغَةُ فِيهِمَا) بِالْغَرْغَرَةِ، وَمُجَاوَزَةِ الْمَارِنِ (لِغَيْرِ الصَّائِمِ) لِاحْتِمَالِ الْفَسَادِ؛ وَسِرُّ تَقْدِيمِهِمَا اعْتِبَارُ أَوْصَافِ الْمَاءِ؛. لِأَنَّ لَوْنَهُ يُدْرَكُ بِالْبَصَرِ، وَطَعْمَهُ بِالْفَمِ، وَرِيحَهُ بِالْأَنْفِ.  وفي الرد : (قَوْلُهُ: الْمَارِنَ) هُوَ مَا لَانَ مِنْ الْأَنْفِ قَامُوسُ (قَوْلُهُ: وَهُمَا سُنَّتَانِ مُؤَكَّدَتَانِ) فَلَوْ تَرَكَهُمَا أَثِمَ عَلَى الصَّحِيحِ سِرَاجٌ. قَالَ فِي الْحِلْيَةِ: لَعَلَّهُ مَحْمُولٌ عَلَى مَا إذَا جَعَلَ التَّرْكَ عَادَةً لَهُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ، كَمَا قَالُوا مِثْلَهُ فِي تَرْكِ التَّثْلِيثِ كَمَا يَأْتِي". [الدر مع الرد : ١/ ١١٥-١١٦]

"عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: حدثتني عائشة رضي اللّٰه عنها أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم کان إذا اغتسل من الجنابة فمضمض واستنشق ثلاثاً. وفي روایة عن عمر رضي اللّٰه عنه قال: إذا اغتسلت من الجنابة فتمضمض ثلاثاً فإنه أبلغ". (المصنف لابن أبي شیبة، کتاب الطهارة / باب في المضمضة والاستنشاق في الغسل،۱؍۶۸رقم:۷۳۷-۷۴۰دار الکتب العلمیة بیروت)

" عن عاصِم بنِ لقيط بن صَبِرَةَ عن أبيه لقيط بن صَبِرَةَ، قال: قال رسولُ اللهِ صلَّى الله عليه وسلم: "بالِغْ في الاسْتِنْشَاق، إلا أن تكون صَائِماً". (سنن أبي داود ت الأرنؤوط 4/ 46)
"وروى أبو داود والترمذي عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة - رضي الله عنه - عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: «تحت كل شعرة جنابة فبلوا الشعر وأنقوا البشر"، ويروى فاغسلوا الفرق» . وعن علي - رضي الله عنه - عن النبي عليه السلام: «من ترك موضع شعرة لم يصبه الماء فعل به كذا وكذا من النار". قال علي: فمن ثم عاديت شعري وكان يجزه». رواه أبو داود وأحمد وغيرهما بإسناد حسن".
وروى الدارقطني عن ابن سيرين عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالاستنشاق من الجنابة» .
وروي أيضاً عن ابن عباس «أمر النبي صلى الله عليه وسلم بالمضمضة والاستنشاق إن كان جنباً أعاد المضمضة والاستنشاق واستأنف الصلاة عليه أن فرضها في الجنابة»". (البناية شرح الهداية 1/ 316)

 

2- نماز فرض ہو یا سنت یا نفل ’’تشہد‘‘ (درود شریف سے پہلے پہلے التحیات کے کلمات) مکمل پڑھنا واجب ہے ۔ تشہد کا ایک لفظ بھی چھوٹ جائے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو واجب ہے ۔ البتہ اگر سائل کی مراد التحیات سے تشہد اور درود شریف دعا سمیت ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ فرض، واجب، سنن و نوافل سب نمازوں کے قعدہ اخیرہ (جس قعدے کے بعد سلام ہو) میں درود شریف اور دعا مانگنا سنت ہے۔ جب کہ فرض، واجب اور سننِ مؤکدہ کے پہلے قعدہ میں صرف تشہد کا حکم ہے، تشہد کے فوراً بعد تیسری رکعت میں کھڑے ہوجانے کا حکم ہے۔  سنتِ غیر مؤکدہ اور نوافل کے قعدہ اولی میں التحیات کے بعد درود شریف اور دعا پڑھنا افضل ہے، لازم نہیں ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(بترك بعضه ككله) قال في البحر: من باب سجود السهو فإنه يجب سجود السهو بتركه ولو قليلاً في ظاهر الرواية لأنه ذكر واحد منظوم، فترك بعضه كترك كله ا هـ".(الشامیة ۱/۵۰۲)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200311

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے