بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غرارہ اور ناک کی ہڈی تک پانی پہچانا/سنن اور نوافل کے قعدہ میں تشہد کا حکم


سوال

 1- فرض غسل میں منہ اور ناک میں پانی ڈالنا کس حد تک ہے؟ کیا صرف کلی کرنا کافی ہے یا غرارہ کرنا اور اسی طرح ناک میں پانی ڈالنا نرم ہڈی تک؟

2- نفل اور سنتِ مؤکدہ اور سنتِ غیر مؤکدہ میں دوسری رکعت میں التحیات آخر تک پڑھنا ضروری ہے یا صرف اشھد تک؟

جواب

1- غسل میں منہ بھر کر کلی کرنا، ناک میں پانی ڈال کر جھاڑنا  ہی کافی ہے، البتہ غیر روزہ دار کے لیے غرارہ کرنا ، ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا مستحب ہے۔

2- نماز فرض ہو یا سنت یا نفل ’’تشہد‘‘ (درود شریف سے پہلے پہلے التحیات کے کلمات) مکمل پڑھنا واجب ہے ۔ تشہد کا ایک لفظ بھی چھوٹ جائے تو ایسی صورت میں سجدہ سہو واجب ہے ۔ البتہ اگر سائل کی مراد التحیات سے تشہد اور درود شریف دعا سمیت ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ فرض، واجب، سنن و نوافل سب نمازوں کے قعدہ اخیرہ (جس قعدے کے بعد سلام ہو) میں درود شریف اور دعا مانگنا سنت ہے۔ جب کہ فرض ، واجب اور سنن مؤکدہ کے پہلے قعدہ میں صرف تشہد کا حکم ہے، تشہد کے فوراً بعد تیسری رکعت میں کھڑے ہوجانے کا حکم ہے۔  سنتِ غیر مؤکدہ اور نوافل کے قعدہ اولی میں التحیات کے بعد درود شریف اور دعا پڑھنا افضل ہے، لازم نہیں ہے۔ 

فتاوی شامی میں ہے:

"(بترك بعضه ككله) قال في البحر: من باب سجود السهو فإنه يجب سجود السهو بتركه ولو قليلاً في ظاهر الرواية لأنه ذكر واحد منظوم، فترك بعضه كترك كله ا هـ".(الشامیة ۱/۵۰۲)  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144007200311

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے