بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

غبن فاحش کے ساتھ کوئی چیز بیچنا


سوال

میں نے ایک موبائل  700 کا خریدا اور پھر اگلے دن کسٹومر کو 2500 کا بیچ دیا،  کیا یہ غبنِ فاحش کہلائے گا؟ اور میری دکان کراۓ کی ہے، جس کا کرایہ 37000 ہے۔

جواب

شریعت میں نفع لینے کی کوئی حد متعین نہیں ہے، جتنا چاہیں نفع لے سکتے ہیں بشرطیکہ جھوٹ نہ بولیں او رگاہک کو دھوکا نہ دیں، البتہ غذا کا بحران ہو تو اس کی قیمت بڑھا کر بیچنا یا کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاکر کوئی بھی چیز  اتنے زیادہ نفع پر بیچنا  جس کو عرف میں "غبنِ فاحش" سمجھا جاتا ہو یہ مروت کے خلاف ہے، اس سے بچنا بہتر ہے، آپ اپنے ہاں کا عرف دیکھ کر خود فیصلہ کرلیں کہ اس کام کےایمان دار  تاجروں کے ہاں یہ غبن فاحش ہے یا نہیں ۔

"الثمن المسمى هو الثمن الذي یسمیه و یعنیه العاقدان وقت البیع بالتراضي سواء کان مطابقاً لقیمته الحقیقیة أو ناقصاً عنها أو زائداً علیها". (شرح المجلة رستم، ط: اتحاد ۱/۷۳)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200068

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے