بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 18 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عورت کے محارم


سوال

عورت کے لیے کون کون محرم ہے ؟

جواب

’’محرم‘‘  اس شخص کو کہتے ہیں جس سے عورت کا نکاح حرام ہو،محارم میں سے بعض وہ ہیں جن سے نکاح کرنا کسی حال میں  حلال نہیں، ان کو ‘‘محرماتِ ابدیہ ’’کہتے ہیں، محرماتِ ابدیہ کی تین قسمیں ہیں:

(۱)نسب کی وجہ سے محرم، جیسے: باپ، دادا، بیٹا (حقیقی،سوتیلا)۔  بھائی (سگا، باپ شریک، ماں شریک)۔  بھتیجا، (سگے، باپ شریک، یا ماں شریک بھائی کا بیٹا)۔  بھانجا، (سگا، باپ شریک، ماں شریک)۔  چچا، (سگا، باپ شریک، ماں شریک)۔  ماموں، (سگا، باپ شریک، ماں شریک)وغیرہ۔

(۲) رضاعت کی وجہ سے محرم، جیسے : رضاعی بھائی،رضاعی والد وغیرہ

(۳) سسرالی رشتہ داری کی وجہ سے محرم، جیسے: سسر، داماد۔

بعض ’’محارم‘‘  وہ ہیں جن سے عورت کا نکاح مخصوص حالت میں نہیں ہوسکتا، اس حالت  کے ختم ہونے کےبعد اس سے نکا ح  کرنا درست ہوتا ہے، مثلاً دیور سے نکاح کرنا شوہر کے مرنے  یا طلاق دینے اور عدت گزار نے کے بعدجائز ہے، اسی طرح ہر وہ غیر محرم عورت جو کسی اور کے نکاح میں ہو، جب تک وہ نکاح یا کسی کی عدت میں ہو تب تک اس سے نکاح حرام ہے۔

پردے اور سفر وغیرہ کے اَحکام میں محرم کے لفظ سے پہلی قسم کے محارم مراد ہوتے ہیں یعنی عورت کے وہ رشتہ دارجن سے اس کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔

قرآن مجید میں ہے:

{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا} [ النساء:۲۳]

قرآن مجید میں ہے:

{وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ} [النساء:24]

صحيح البخاري ـ حسب ترقيم فتح الباري - (3 / 222):

"عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم في بنت حمزة لاتحل لي، يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع - (5 / 419):

"ولنا قوله تعالى: { ولاتنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء} والنكاح يستعمل في العقد والوطء فلايخلو إما أن يكون حقيقةً لهما على الاشتراك، وإما أن يكون حقيقة لأحدهما مجازاً للآخر، وكيف ما كان يجب القول بتحريمهما جميعاً؛ إذ لا تنافي بينهما كأنه قال عز وجل: {ولاتنكحوا ما نكح آباؤكم من النساء} عقداً ووطئاً". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144004200320

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے