بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 ربیع الثانی 1441ھ- 05 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عورت کے لیے چہرے اور گردن کے بال کاٹنے کا حکم


سوال

کسی عورت کے چہرے  یا گردن پر جو بال نکلتے ہیں،  ان کو قینچی سے کاٹ سکتے ہیں یا نہیں ؟ 

جواب

خواتین کے لیے اپنے چہرے کے خلافِ عادت آنے والے بال مثلاً : داڑھی، مونچھ، پیشانی وغیرہ کے بال اور گردن کے بال مونڈنا یا قینچی سے کاٹنا کرنا جائز ہے، البتہ ان بالوں کو نوچ کرنکالنا مناسب نہیں، کیوں کہ اس میں بلاوجہ اپنے جسم کو اذیت دیناہے،  کسی پاؤڈر وغیرہ سے کے ذریعہ یا کسی ایسے طریقہ سے جس سے تکلیف نہ ہو ، یہ بال صاف کر لیے جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔

باقی عورت کے لیے بھنویں بنانا (دھاگا یا کسی اور چیز سے)یا اَبرو کے اطراف سے بال اکھاڑ کر باریک دھاری بنانا جائز نہیں، اس پر حدیث میں لعنت وارد ہوئی ہے،  اسی طرح  دونوں ابرؤں کے درمیان کے بال زیب وزینت کے حصول کے لیے کتروانا جائز نہیں،  البتہ اگر  اَبرو بہت زیادہ پھیلے ہوئے ہوں تو ان کو درست کرکے  عام  حالت کے مطابق   (ازالۂ عیب کے لیے )معتدل کرنے کی گنجائش ہے۔

حاشية رد المحتار على الدر المختار (٦/ ٣٧٣):

"( والنامصة إلخ ) ذكره في الاختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب". فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144010200570

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے