بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

بوجہ عذر عورت کا تشہد میں بائیں طرف پاؤں نکالنا


سوال

نماز میں اگر عورت دائیں کے بجائے بائیں طرف پاؤں نکال کر بیٹھے تو کیا یہ غلط ہے؟ اس سے نماز ہو جائے گی؟ کیوں کہ ان سے سیدھی طرف بیٹھا نہیں جاتا ، سجدہ بھی نہیں کرسکتیں۔

جواب

عورت کے لیے مسنون تو یہی ہے کہ دائیں طرف پاؤں نکالے، لیکن اگر عذر کی وجہ سے وہ اس طرح کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، نماز ہو جائے گی۔

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 269):

’’و" يسن "تورك المرأة" بأن تجلس على أليتها وتضع الفخذ على الفخذ وتخرج رجلها من تحت وركها اليمنى؛ لأنه أستر لها‘‘.   فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200877

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے