بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 ذو الحجة 1441ھ- 13 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

عورت پر تہمت لگانے کی سزا


سوال

 ایک عاقل بالغ شخص جس کی عمر تقریبا 90 سال ہے، اس نےایک عورت جس کی عمرتقریبا 50 سال ہے اس پر یہ الزام لگایا ہے کہ صبح کی نماز کے وقت اس عورت کے گھر کی جالی کے دروازے سے ایک شخص کو گلی میں نکلتے دیکھا اور جب میں نے اس سے پوچھا کہ یہاں کیا کر رہے ہو،تو اس نے کوئی معقول جواب نہیں دیا اور ٹال مٹول کرنے لگا ۔ اس واقعہ کے بعد الزام لگانے والے نے یہ بات پورے خاندان میں پھیلا دی، نیز اس عورت کا خاوند بیرون ملک تھا اس کو بھی بتایا اور خاوند واپس آیا تو الزام لگانے والا کوئی گواہ نہ لا سکا اورنہ  کسی نے اقرار کیا ہے۔ جرگہ میں عورت نے اس بات سے کہ کوئی غیر محرم اس گھر آیا تھا صاف انکار کر دیا اور کہا کہ یہ مجھ پر تہمت ہے اور پرانی دشمنی بھی بتلائی۔اس بارے میں  شریعت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

بغیر ثبوت شرعی کی کسی مسلمان مرد یا عورت پربدکاری یا ناجائز تعلق  کی تہمت لگاناحرام اور گناہ کبیرہ ہے، اور عورت پاک دامن ہو تو اس  پر تہمت کا گناہ عام شخص پر تہمت سے بھی سخت ہے، اگر کوئی شخص کسی پر زنا کی تہمت لگاتاہے تواسلامی حکومت میں  ایسے شخص سے اس کے دعوی پر گواہ طلب کیے جائیں گے، اگر وہ گواہ پیش نہ کرسکے تواسے حدقذف لگائی جائے گی.

واضح رہے کہ سزا نافذ کرنے کااختیار عام افراد کو حاصل نہیں، بلکہ اسلامی حکومت اس کی مجاز ہے۔ جہاں اسلامی حکومت اور شرعی سزائیں نافذ نہ ہوں تو ایسے شخص سے توبہ کروائی جائے اور اس نے جس شخص پر تہمت لگائی ہے اس سے معافی طلب کرے۔نیز اگر  شرعی  سزائیں نافذ نہ ہوں تو عدالت  ایسے شخص کو تعزیری سزا بھی جاری کر سکتی ہے؛ تاکہ آئندہ ایسی غلطی کا ارتکاب نہ ہو۔(ہدایہ،کتاب الحدود،2/م529 مکتبہ شرکت علمیہ-فتاوی حقانیہ 5/162)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143906200035

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں