بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 صفر 1442ھ- 01 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کے لیے ’’بیلٹ شلوار‘‘ پہننے کا حکم، کیا قمیص، شلوار ہندؤوں کا لباس ہے؟


سوال

بیلٹ شلوار پہنا کیسا ہے عورتوں اور نوجوان، جوان لڑکیوں کے لیے؟ کیا بیوی کو جائز ہے؟ اس کے علاوہ ماں، بہن، بیٹی کو بھی؟ اور اکثر اوقات لوگ باتیں کرتے ہیں کہ شلوار قمیص  ہندؤں کا لباس ہے، اس کے بارے میں کچھ بتائیں!

جواب

تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ بیلٹ والی شلوار جو خواتین پہنتی ہیں وہ عام شلوار کے مقابلہ میں کچھ  زیادہ چوڑی ہونے  کی وجہ سے زیادہ آرام دہ ہوتی ہے، اس تفصیل  کی رو سے خواتین (چاہے بیوی ہو یا ماں، بہن، بیٹی ہو) کے لیے  بیلٹ  والی  شلوار  پہننے  میں کوئی حرج نہیں ہے۔

شلوار قمیص کو  ہندؤوں کا لباس قرار دینا درست نہیں ہے؛ کیوں کہ رسول اللہ ﷺ کا قمیص (یعنی کرتا)  پہننا تو شہرت کی حد کو پہنچتاہے، جب کہ شلوار خریدنا اور اسے پسند کرنا بھی رسول اللہ ﷺ  سے ثابت ہے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کا استعمال احادیثِ مبارکہ میں ثابت ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200083

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں