بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 19 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کا مسجد میں نماز پڑھنا


سوال

اگر عورتیں مسجد میں چلی جائیں اور مردوں کے پیچھے جماعت میں شریک ہو جائیں تو ان کی نماز ہوجائے گی؟

جواب

عورتوں  کاجماعت سے نماز پٖڑھنے  کے لیے مسجد جانا مکروہِ تحریمی  ہے، حضور ﷺ نے عورتوں کے لیے مسجد کے مقابلہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھنے کو افضل قرار دیا ہے، پھر  حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں خواتین کو مساجد میں جماعت سے نماز پڑھنے سے روکا تو کسی صحابی نے اعتراض نہیں کیا، بلکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یوں فرماکر گویا تائید کردی کہ اگر رسول اللہ ﷺ اس زمانے میں عورتوں کو دیکھتے تو آپ ﷺ انہیں مسجد میں آکر نماز ادا کرنے سے منع فرماتے۔ لہٰذا عورتوں کا جماعت سے نماز پڑھنے کے لیے مسجد جانا مکروہِ تحریمی ہے۔  تاہم اگر عورتیں مسجد میں چلی گئیں اور امام کی اقتدا میں مردوں کے پیچھے (اتصالِ صفوف کی رعایت رکھتے ہوئے) کھڑی ہوگئیں تو ان کی نماز ہوجائے گی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144102200370

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے