بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کرنے کے لیے عقیقہ ہونا شرط نہیں


سوال

کیا عمرہ کرنے کے لیے عقیقہ ہونا ضروری ہے؟

جواب

عقیقہ کرنا مستحب ہے،  اور اس  کا مسنون وقت یہ ہے کہ پیدائش کے ساتویں دن عقیقہ کرے،  اگر ساتویں دن عقیقہ نہ کرسکے تو چودھویں (14)  دن  ورنہ اکیسویں ( ۲۱) دن کرے۔لیکن اگر  کوئی شخص عقیقہ نہ کرے تو  اس  سے نہ وہ گناہ گار ہوگا اور نہ ہی اس سے دیگر احکام میں کوئی فرق آئے گا، لہذا جس کا عقیقہ نہ ہوا ہو وہ بھی عمرہ یا حج کا سفر کرسکتا ہے ،اس کا عمرہ و حج کرنا درست ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200461

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے