بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 22 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کی نیت سے جاکر بعد میں قران کا احرام باندھنا


سوال

کیا پاکستان سے حاجی حج کے دنوں میں صرف عمرہ کی نیت سے جاکر بعد میں حج کے قریب کسی بھی میقات سے ’’حجِ قران‘‘  کی نیت سے احرام باندھ سکتا ہے؟

جواب

حج کے ایام میں میقات میں موجود شخص مکہ والوں کے حکم میں ہوتا ہے اور مکہ اور میقات کے اندر رہنے والوں کے لیے حجِ  تمتع یا قران کا احرام باندھنا جائز نہیں، لہذا خارجِ  میقات سے آنے والا اگر حجِ  قران کی نیت سے داخل نہیں ہوا،  صرف عمرہ کی نیت سے داخل ہوا یا حجِ تمتع کی نیت سے آیا اور عمرہ کرکے حلال ہوچکا ہے، پھر میقات میں ہوتے  ہوئے قران کی نیت سے حج کا احرام  باندھنا چاہے تو ایسا کرنا جائز نہیں.  اگر صرف عمرے کی نیت سے آیا تھا اور عمرہ کرنے کے بعد قران کرلیاحج تو ادا ہوجائے گا،  لیکن دم دینا لازم ہوگا۔

الدر المختار (2 / 539):
"(والمكي ومن في حكمه يفرد فقط ) ولو قرن أو تمتع جاز وأساء وعليه دم جبر". فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144012200258

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے