بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1441ھ- 07 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کے بعد چند بال کاٹنے سے احرام ختم نہیں ہوتا


سوال

میں سعودی عرب میں رہتا ہوں،  یہاں کے تمام خارجی لوگ عمرہ کرنے جب جاتے ہیں تو عموماً  ٹنڈ نہیں کرتے اور اپنے بالوں میں ۳ یا ۴ جگہ چھوٹے چھوٹے کٹ لگاتے ہیں جو کہ سر کا  ۱/۴ حصہ نہیں ہوتا۔ اور متعدد بار ایسا میں نے بھی کیا ہے؛ کیوں کہ مسٗئلہ کا پتا  نہیں تھا،  ایک مفتی صاحب سے اس مسئلے کا پوچھا تھا انہوں نے فرمایا تھا کہ دم ہو گیا ہے۔

لیکن اب یاد نہیں کہ کتنی دفعہ میں نے عمرہ کیا ہے اور ۱/۴ حصہ بال کاٹے ہیں؛ کیوں کہ چند عمروں میں میں نے ٹنڈ کیا تھا اور یا بال مشین کیے تھے۔ لیکن اب مجھے یہ نہیں پتا  کہ دم کتنی دفعہ ادا کرنا ہوگا ؟

اگر ۱۰ ۔۔ ۱۲ دفعہ دم ہوا ہے تو ۱۰ ۔۔۔۱۲ دم ادا کرنے ہوگے  یا صرف ایک ؟

زیادہ دم ادا کرنا بھی مشکل ہے اور گنا ہ سے  بھی ڈرتا ہوں،  براہ کرم راہ نمائی کریں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ طریقہ سے بال کاٹنے سے محرم احرام کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے ممنوعاتِ احرام مثلاً سلے  ہوئے کپڑے پہننا، بیوی سے ہم بستری کرنا، وغیرہ کے ارتکاب کی بنا پر دم لازم ہوجائے گا، اور مخلتف النوع ہر  جنایت کا الگ الگ دم ادا کرنا لازم ہوگا، ایک دم ادا کرنا کافی نہ ہوگا، پس اگر تعداد یاد نہ ہو تو اچھی طرح سوچ بچار کرنے کے بعد تعداد کے حوالے سے غالب گمان کو معیار قرار دیا جائے گا، پھر جیسے جیسے گنجائش ہو ایک ایک کرکے ادا کرتے رہیے، اور استغفار بھی کرتے رہیے، امید ہے کہ اللہ پاک آپ کے لیے آسانی پیدا فرمائیں گے۔

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

’’س… اس مرتبہ عمرہ پر اکثر لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ عمرہ کے بعد بال کاٹے بغیر اِحرام کھول لیتے ہیں یا بعض لوگ چاروں طرف سے معمولی معمولی بال کاٹ لیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ چوتھائی کاٹنے کا حکم ہے جو کہ اس طرح پورا ہوجاتا ہے، اور بعض لوگ مشین سے کاٹتے ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ان کا اِحرام کا اُتارنا آیا دَم وغیرہ کو واجب کرتا ہے یا نہیں؟ اور مسنون طریقہ کیا ہے؟

ج… حج و عمرہ کا اِحرام کھولنے کے لیے چار صورتیں اختیار کی جاتی ہیں، ہر ایک کا حکم الگ الگ لکھتا ہوں۔

اوّل یہ کہ حلق کرایا جائے، یعنی اُسترے سے سر کے بال اُتار دیے جائیں، یہ صورت سب سے افضل ہے اور حلق کرانے والوں کے لیے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ رحمت کی دُعا فرمائی ہے، جو شخص حج وغیرہ پر جاکر بھی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعائے رحمت سے محروم رہے، اس کی محرومی کا کیا ٹھکانا؟  اس لیے حج و عمرہ پر جانے والے تمام حضرات کو مشورہ دُوں گا کہ وہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا سے محروم نہ رہیں، بلکہ حلق کراکر اِحرام کھولیں۔

دُوسری صورت یہ ہے کہ قینچی یا مشین سے پورے سر کے بال اُتار دیے جائیں،  یہ صورت بغیر کراہت کے جائز ہے۔

تیسری صورت یہ ہے کہ کم سے کم چوتھائی سر کے بال کاٹ دیے جائیں، یہ صورت مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے؛ کیوں کہ ایک حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے، مگر اس سے اِحرام کھل جائے گا۔ اب یہ خود سوچیے  کہ جو حج و عمرہ جیسی مقدس عبادت کا خاتمہ ایک ناجائز فعل سے کرتے ہیں ان کا حج و عمرہ کیا قبول ہوگا؟

چوتھی صورت میں جب کہ اِدھر اُدھر سے چند بال کاٹ دیے جائیں جو چوتھائی سر سے کم ہوں، اس صورت میں اِحرام نہیں کھلے گا، بلکہ آدمی بدستور اِحرام میں رہے گا، اور اس کو ممنوعاتِ اِحرام کی پابندی لازم ہوگی، اور سلا ہوا کپڑا  پہننے اور دیگر ممنوعاتِ اِحرام کا ارتکاب کرنے کی صورت میں اس پر دَم لازم ہوگا۔ آج کل بہت سے ناواقف لوگ دُوسروں کی دیکھا دیکھی اسی چوتھی صورت پر عمل کرتے ہیں، یہ لوگ ہمیشہ اِحرام میں رہتے ہیں، اسی اِحرام کی حالت میں تمام ممنوعات کا ارتکاب کرتے ہیں، وہ اپنی ناواقفی کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ ہم نے چند بال کاٹ کر اِحرام کھول دیا، حال آں کہ ان کا اِحرام نہیں کھلا اور اِحرام کی حالت میں خلافِ اِحرام چیزوں کا ارتکاب کرکے اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب کو مول لیتے ہیں۔  یہی وجہ ہے کہ ہزاروں لوگوں میں کوئی ایک آدھ ہوگا جس کا حج و عمرہ شریعت کے مطابق ہوتا ہو، باقی لوگ سیر سپاٹا کرکے آجاتے ہیں اور ”حاجی“ کہلاتے ہیں، عوام کو چاہیے کہ حج و عمرہ کے مسائل اہلِ علم سے سیکھیں اور ان پر عمل کریں، محض دیکھا دیکھی سے کام نہ چلائیں۔

س… حج یا عمرہ کے موقع پر سر کے بال کٹوائے جاتے ہیں، کچھ لوگ چند بال کٹواتے ہیں اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد ہیں، کیا اس طرح بال کٹوانے سے ان کا اِحرام کھل جاتا ہے؟ اِحرام کے ممنوعات حلال ہوجاتے ہیں؟

ج… حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اِحرام کھولنے کے لیے کم سے کم چوتھائی سر کے بالوں کا ایک پورے کی مقدار کاٹنا شرط ہے۔ اس لیے جو لوگ چند بال کاٹ لیتے ہیں ان کا اِحرام نہیں کھلتا اور اسی حالت میں ممنوعات کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے ان پر دَم لازم آتا ہے۔( ٤ / ١٣٠، بعنوان: اِحرام کھولنے کے لیے کتنے بال کاٹنے ضروری ہیں؟) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200216

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں