بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 26 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کسے کہتے ہیں؟


سوال

عمرہ کسے کہتے ہیں؟

جواب

عمرہ کے معنیٰ لغت میں مطلق ''زیارت''  کے ہیں اورشریعت کی  اصطلاح میں میقات یا حِل سے احرام باندھ کر بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرنے  کرنے کو عمرہ کہتے ہیں، عمرہ کو حج اصغر بھی کہاجاتاہے ۔تاج العروس میں ہے:

"والعُمْرَةُ ، بالضَّمّ : هي الزَّيارَةُ الَّتِي فيها عَمَارَةُ الوُدِّ ، وجُعِلَ في الشَّرِيعَةِ للقَصْدِ المَخْصوص"۔ (13/130)

عمرہ کا طریقہ یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو میقات پر ورنہ گھر میں پہلے آپ غسل کرکے احرام کی چادریں باندھ لیں اور دونوں کاندھے ڈھانپتے ہوۓ  2 رکعت نفل ادا کریں، پھر اگر میقات پر احرام باندھا ہو تو وہیں تلبیہ پڑھ کر عمرہ کی  نیت کریں، اور گھر یا اپنے شہر میں غسل کرکے  احرام باندھا ہو تو فی الحال نیت نہ کریں، یہاں تک کہ جب جہازپرواز کرجائے تو میقات آنے سے پہلے عمرے کی نیت کرکے تلبیہ پڑھیں، اور پھر دوران سفر مسجد الحرام تک  تلبیہ  کا ورد کرتے رہیں،  بیت اللہ میں داخل ہوتے ہوئے  اگر فرض نماز کی جماعت کا وقت نہ ہو تو پہلا کام طواف کا ہی کریں , مطاف میں داخل ہوتے ہوئے اضطباع (دائیاں کاندھا ننگا) کرلیں،طواف حجر اسود سے شروع کریں،  طواف شروع کرنے سے پہلے طواف کی نیت کریں، پھر حجر اسود کی سیدھ میں کھڑے ہوکر جیسے نماز میں تکبیر تحریمہ کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں اسی طرح دونوں کانوں تک ہاتھ اٹھاکر تکبیر وتہلیل کہیں،  بسم الله , الله أکبرکہہ کر حجر اسود کو بوسہ دیں (اگر ممکن نہ ہو تو ) اسے ہاتھ لگا کر چوم لیں، (اور اگر یہ بھی ممکن نہیں) تو صرف ہاتھ سے اشارہ کر دیں ، (آج کل چوں کہ حجر اسود پر خوشبو لگی ہوتی ہے اس لیے احرام کی حالت میں اسے ہاتھ نہ لگائیں)اور پھر کل سات چکر کعبۃ اللہ کے لگائیں , پہلے تین چکروں میں ممکن ہوتو رمل کریں ( یعنی کاندھے ہلاتے ہوئے آہستہ دوڑیں )، ہر چکر کی کوئی خاص دعا تو نہیں، لیکن آپ چند ایک دعائیں ضرور یاد کر لیں، اور دورانِ طواف اللہ وحدہ لا شریک کی زیادہ سے زیادہ تسبیح بیان کریں،   ہر چکر میں رکنِ یمانی کا استلام کریں (یعنی صرف دائیں ہاتھ سے رکن یمانی کو چھوئیں), اگر موقعہ نہ ملے تو اور کچھ نہ کریں(یعنی اشارہ کرنا یا اسے بوسہ دینا درست نہیں)،  رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعاپڑھیں:

'' ربنا آتنا في الدنیا حسنةً وفي الآخرة حسنةً وقنا عذاب النار''۔

طواف کے سات چکروں کے بعد مقامِ ابراہیم علیہ السلام کے پاس دو رکعتیں نماز برائے طواف ادا کر لیں،  پھر آبِ زم زم (خوب) سیر ہو کر پییں، ممکن ہو تو ملتزم سے چمٹ کر خوب دعائیں کریں، (آج کل یہاں بھی خوشبو لگی ہوئی ہوتی ہے، اس لیے ملتزم سے چمٹے بغیر اس کی سیدھ میں کھڑے ہوکر دعا مانگ لیں) پھر حجر اسود کا استلام کرکے سعی کرنے کے لیے صفا کا رخ کریں اور اس پر چڑھتے ہوئے پڑھیں  '' إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللهِ، أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللهُ بِه''،صفا پر چڑھ کر قبلہ رخ ہوکر تین مرتبہ " الله أکبر " کہیں ۔ پھر تین مرتبہ یہ دعاپڑھیں : "لاإله إلا الله وحده لا شریک له، له الملک وله الحمد یحيي ویمیت وهو على کل شيءٍ قدیر، لا إله إلا الله وحده، أنجز وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده" ،پھر جو دل چاہے دنیا و آخرت کی بھلائی کی دعائیں کریں- صفا سے نیچے اتریں اور چلنا شروع کریں، جب سبز رنگ کی لائٹ کے پاس پہنچیں تو وہاں سے لے کر دوسری سبز رنگ کی لائٹ تک مرد حضرات دوڑیں- پھر چلتے ہوئے مروہ پہنچیں اور وہاں وہی کچھ کریں جو صفا پر کیا تھا، صفا سے مروہ  تک ایک چکر شمار ہوتا ہے، کل سات چکر لگائیں، سعی کرنے کے بعد بال کتروائیں یا منڈوائیں اور احرام کھول دیں۔ 

مزید تفصیل کے لیے مفتی محمدانعام الحق قاسمی صاحب کی کتاب ”عمرہ اور حج کا آسان طریقہ“ کا مطالعہ مفید رہے گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200744

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے