بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

عمرہ کا احرام کہاں سے باندھا جائے ؟َ عمرہ کے بعد حلق یا قصر کا حکم ، نابالغ کے احرام کا حکم


سوال

1۔ میں اپنی فیملی کے ساتھ الحمدللہ عمرہ کرنے جا رہاہوں، کیا لازم ہے کہ احرام کراچی ایئرپورٹ پر باندھا جائے; کیوں کے تقریباً 10 گھنٹے لگتے ہیں?

2۔ کیا عمرہ کرنے کے لیے گنجا ہونا لازم ہے؟

3۔ کیا سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کر سکتے ہیں؟

4۔ کیا نابالغ بچے پر عمرہ کے لیے احرام لازم ہے؟

جواب

1۔ ہوائی جہاز کے ذریعے حج یا عمرے کے لیے جانے والے افراد جن کا ارادہ براہِ راست مکہ مکرمہ جانے کا ہو، انہیں چاہیے کہ اپنے شہر میں ہی غسل کرکے احرام کی چادریں باندھ کر دو رکعت نفل پڑھ لیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ فی الحال حج یا عمرے کی نیت نہ کریں، نہ ہی تلبیہ پڑھیں، جب جہاز روانہ ہوجائے اور اطمینان ہوجائے تو نیت کرکے تلبیہ پڑھ لیں۔ اور اگر جہاز پر سوار ہونے سے پہلے احرام نہیں باندھا تو میقات آنے سے پہلے جہاز کا عملہ عام طور پر اعلان کرتا ہے کہ میقات آنے والا ہے، وہاں میقات سے پہلے پہلے احرام باندھ لیاجائے۔ پاکستان سے سفرکرنے والے  احتیاطاًجدہ پہنچنے سے تقریباً آدھا گھنٹہ  پہلے ضرور احرام باندھ لیں (اس لیے کہ  پاکستان وغیرہ سے جانے والا ہوائی جہاز عموماً قرن المنازل کی میقات یا اس کی محاذات سے گزر کر جدہ پہنچتا ہے۔ اس مقام سے گزرنے سے پہلے حجاج کو بہرحال احرام باندھ لینا ضروری ہے)۔

اور اگر پہلے مدینہ منورہ جانے کاارادہ ہوتو پھریہاں سے احرام باندھنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جب مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ جانا ہو تو ذو الحلیفہ سے احرام باندھا جائے گا۔

ہدایہ  میں ہے:

’’ وفائدة التأقيت المنع عن تأخير الإحرام عنها؛ لأنه يجوز التقديم عليها بالاتفاق، ثم الأفاقى إذا انتهى إليها على قصد دخول مكة عليه أن يحرم قصد الحج أو العمرة أو لم يقصد عندنا؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: لا يجاوز أحد الميقات إلا محرماً ... فلا حرج فإن قدم الإحرام على هذه المواقيت جاز‘‘. (1/136)

2۔ عمرے یا حج کے احرام سے حلال ہونے کے لیے سر منڈوانا لازم نہیں ہے، بلکہ کم از کم چوتھائی سر کے بال ایک پورے کے برابر کٹوانا ضروری ہے، البتہ مرد کے لیے افضل  یہ ہے کہ سارے سر کے بال منڈوالے اور اگرحلق(سرمنڈوانے) کے بجائے  ایک پورے کی بقدر سارے سر کے بال کٹوادے تو بھی جائز ہے۔ 
مشکاۃ المصابیح میں ہے:

ترجمہ:حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حجۃ الوداع میں اپنا سر منڈایا اور صحابہ میں سے کچھ نے تو اپنے سر منڈائے اور کچھ نے اپنے بال کتروائے ۔ (بخاری و مسلم)

علامہ قطب الدین خان دہلوی رحمہ اللہ مظاہر حق میں لکھتے ہیں:

تشریح:جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے سر منڈائے انہوں نے تو آں حضرت ﷺ کی اتباع کے جذبے اور حصولِ فضیلت کو پیشِ نظر رکھا اور جن صحابہ رضی اللہ عنہم نے بال کتروانے پر اکتفا کیا (انہوں نے گویا جواز پر عمل کیا کہ بال کتروانا بھی جائز ہے)۔ صحیحین وغیر ہما میں یہ منقول ہے کہ آں حضرت ﷺ نے عمرۃ القضاء میں سر منڈانے کی بجائے بال کتروائے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آں حضرت ﷺ سے یہ دونوں چیزیں ثابت ہیں، لیکن افضل سر منڈانا ہی ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

’’( قوله: ثم احلق أو قصر و الحلق أحب ) ... والمراد بالتقصير أن يأخذ الرجل أو المرأة من رءوس شعر ربع الرأس مقدار الأنملة، كذا ذكر الشارح ، ومراده أن يأخذ من كل شعرة مقدار الأنملة ... وإنما كان الحلق أفضل؛ لدعائه عليه السلام للمحلقين بالرحمة ثنتين أو ثلاثاً وفي الثالثة أو ... الرابعة للمقصرين بها‘‘. (7/11)

3۔عمرہ مکمل کرکے حلق یا قصر کے بعد بیوی سے ہم بستر ہونا جائز ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔

4۔ اگر والدین اپنے ساتھ بچے کو حج یاعمرہ کرانے لے جارہے ہیں تو ان کو چاہیے کہ بچے کو دو چادریں بطور احرام کے پہنائیں۔اور چوں کہ بچہ نابالغ ہونے کی وجہ سے احرام کامکلف نہیں، اس لیے اگر اس سے احکامِ احرام کی خلاف ورزی بھی ہوجائے تودم لازم نہیں ہوگا۔البحرالرائق میں ہے:

’’ وفي إسناد الإحرام إلى الصبي دليل على صحته منه، وهو محمول على ما إذا كان يعقله، فإن كان لا يعقله فأحرم عنه أبوه صار محرماً فينبغي أن يجرده قبله ويلبسه إزاراً و رداءً، ولما كان الصبي غير مخاطب كان إحرامه غير لازم، ولذا لو أحصر وتحلل لا دم عليه ولا جزاء ولا قضاء ‘‘. (6/371)فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144001200798

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں