بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عمرہ پر گیا شخص فطرہ کہاں کے مطابق ادا کرے؟


سوال

ایک بندہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ماہِ رمضان میں عمرہ ادا کرنے گیا تو فطرہ  وہاں کے اعتبار سے ادا کرے گا یا پاکستان کے اعتبار سے ادا کرے گا؟  میاں، بیوی عمرے پر ہوں اور چھوٹے بچے یہاں پاکستان میں۔ اس مسئلے میں راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

صدقہ فطر میں قیمت کے حساب سے فطرہ ادا کرتے وقت آدمی جہاں ہو وہاں کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے،لہذا عمرہ پر گئے میاں بیوی اپنا اور اپنے بچوں کا فطرہ اگر سعودیہ میں ادا کریں گے تو وہاں پونے دو کلو گندم کی جو قیمت ہوگی اسی کے حساب فطرہ ادا کرنا ہوگا،اور اگر عید سے پہلے واپسی ہوجائے اور فطرہ ادا نہ کیا ہو تو پھر پاکستان کے حساب سے فطرہ ادا کیا جائے گا۔

الدر المختار شرح تنوير الأبصار في فقه مذهب الإمام أبي حنيفة - (2 / 355)
"والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي، عن محمد وهو الأصح".
حاشية رد المحتار على الدر المختار - (2 / 355)
" (قوله : مكان المؤدي ) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه ، (قوله : وهو الأصح ) بل صرح في النهاية و العناية بأنه ظاهر الرواية، كما في الشرنبلالية. وهو المذهب ، كما في البحر. فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدي عنه. قال الرحمتي: وقال في المنح في آخر باب صدقة الفطر: الأفضل أن يؤدي عن عبيده وأولاده وحشمه حيث هم عند أبي يوسف، وعليه الفتوى، وعند محمد حيث هو. اه تأمل . قلت: لكن في التاترخانية: يؤدي عنهم حيث هو، وعليه الفتوى، وهو قول محمد، ومثله قول أبي حنيفة، وهو الصحيح".
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143909200780

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے