بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 صفر 1442ھ- 22 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

علاج کے لیے کسی کو زکاۃ کی رقم دینا


سوال

ایک غریب شخص جس کا بیٹا نشے کی لت میں مبتلا ہو، اس کے علاج کے لیے والد کوزکاۃ دی جاسکتی ہے؟ 

جواب

اگر مذکورہ شخص غریب ہے اور مستحقِ زکاۃ ہے یعنی اس کی ملکیت میں بنیادی ضرورت ( یعنی رہنے کا مکان،  گھریلوبرتن، کپڑے  وغیرہ)سے زائد نصاب کے بقدر  (یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت  کے برابر) مال یا سامان موجود نہ ہو تو ایسے شخص کو زکاۃ  کی رقم دے سکتے ہیں اور پھر وہ شخص اس رقم کواپنے بیٹے کے علاج میں صرف کرناچاہے تو کرسکتاہے۔(کفایت المفتی 4/274دارالاشاعت)فقط واللہ اعلم

 


فتوی نمبر : 144102200085

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں