بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 13 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عدت کے دوران مطلقہ بیوی کی رہائش کس کے ذمہ ہے؟


سوال

حاملہ بیوی کو جھگڑے کے دوران تین طلاق دی۔ اب اُس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ رجوع تو ممکن نہیں، کیا میں اسے بچے کی پیدائش تک دیکھ بھال کے لیے اپنے پاس بغیر ازدواجی تعلق قائم کیے رکھ سکتا ہوں؟ یا جب تک اس کا کوئی اور ٹھکانہ نہیں بنتا؟ اگر رجوع کی کوئی صورت ہو تو بھی راہ نمائی فرمائیں! 

جواب

صورتِ  مسئولہ میں چوں کہ  تین طلاق  شوہر دے چکا ہے، لہذا اب رجوع جائز نہیں اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح بھی حلال نہیں، عدت کے دوران سائل پر لازم ہے کہ وہ مذکورہ خاتون کے نان و نفقہ و رہائش کی فراہمی کی ذمہ داری ادا کرے، پس جب تک بچہ کی پیدائش نہیں ہوجاتی، اس وقت تک مذکورہ خاتون کی  رہائش کا انتظام کرنا  اور اس کے نان و نفقہ کی ذمہ داری نباہنا سائل پر لازم ہے۔  فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200423

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے