بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 شوال 1441ھ- 03 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

اباضی امام کے پیچھے حنفی کی نماز


سوال

نماز  سے متعلق عبازی (عبدی) امام کے پیچھے حنفی کی نماز ہوگی یا نہیں؟

جواب

’’فرقہ اباضیہ‘‘  کے بارے میں علماء محققین کا فیصلہ ہے کہ وہ خوارج کا ایک فرقہ ہے جن کے عقائد قرآن وحدیث اور اہل السنۃ والجماعۃ کے خلاف ہے، مثلاً: ان کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآنِ پاک جو اللہ کا کلام ہے، وہ مخلوق ہے۔  قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کا دیدار نہیں ہوگا۔ اسی طرح ان کا عقیدہ ہے کہ ایک مسلمان گناہوں کی وجہ سے جب دوزخ میں جائے گا تو پھر وہ دوبارہ جنت میں نہیں جائے گا، لہٰذا یہ فرقہ اہل السنۃ والجماعۃ سے خارج ہے ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔

   حضرت مولانا مفتی رشیداحمد صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ نے بھی ایک سوال کے جواب میں تحریر کیا ہے:

”عبداللہ بن اباض کی جانب منسوب جو فرقہٴ اباضیہ ہے اورجو خوارج ہی کی شاخ ہے، ان کے عقائد کتابوں میں ملتے ہیں، اگر یہ فرقہ بعینہ وہی ہے یا ان کے عقائد ان کے مطابق ہیں تو ان کے پیچھے نماز نہیں ہوتی؛ اس لیے ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے“۔ (احسن الفتاویٰ:۱/۱۹۸)

"نفائس الفقہ ۴/۴۲۰"  میں ہے:

 ”عمان کے اباضیہ دراصل خوارج ہیں؛ لہٰذا ان کے پیچھے نماز درست نہ ہوگی، اگرچہ یہ بہ نسبت دیگر فرق خوارج کے معتدل ہیں، تاہم جو بنیادی عقائد خوارج کے ہیں، ان میں یہ بھی شامل ہیں۔“ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200612

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے