بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

عاقلہ بالغہ کے ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں نکاح منعقد یا نہ ہونے میں مفتی بہ قول


سوال

آپ نے غیرکفو میں نکاح سے متعلق جواب دیا کہ اگر والدین کی مرضی کے بغیر نکاح کیا غیرکفو میں تو نکاح ہوجاتا ہے اور اولیاء کو فسخ کا اختیار ہوتاہے، لیکن "آپ کے مسائل اور ان کا حل میں"، صفحہ نمبر 134 جلد نمبر 6 میں لکھا ہے کہ غیرکفو میں نکاح باطل ہے۔ اس کی وضاحت فرماکر مشکور ہوں!

جواب

عاقلہ بالغہ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر از خود  اگر اپنا نکاح  کفو میں کرتی ہے تو ایسا نکاح احناف کے نزدیک بالاتفاق منعقد اور لازم ہوجاتا ہے، اگرچہ بغیر  عذر کے ایسا کرنا ناپسندیدہ ہے،  اور  اگر عاقلہ ، بالغہ لڑکی کا ولی موجود نہیں ہے، یا فاتر العقل ہے یا سوء الاختیار ہے تو  ایسی صورت میں اگر وہ اپنا نکاح خواہ کفو میں کرے یا غیر کفو میں کرے، بہر صورت منعقد اور لازم  ہوجاتا ہے۔

اگر ولی کی موجودگی میں عاقلہ ، بالغہ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر غیر کفو میں نکاح کرتی ہے ، اور ولی اس نکاح کی اجازت نہیں دیتا تو اس سلسلے میں ائمہ احناف کی دو روایتیں ہیں:

(1) امام اعظم ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کے آخری قول کے مطابق ”ظاہر الروایہ“ یہ ہے کہ ایسا نکاح تو منعقد ہوجاتا ہے ، اور احکامِ نکاح بھی اس پر عائد ہوتے ہیں، طلاق، نان ونفقہ، میراث، نسب وغیرہ سب احکام جاری ہوتے ہیں، البتہ  اولاد ہونے سے پہلے تک ولی کو  بذریعہ عدالت اس نکاح کو فسخ کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، بہت سے مشایخ نے اسی روایت کو اختیار کیا ہے اور اسی پر فتوی دیا ہے۔

(2) امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے حسن بن زیاد رحمہ اللہ کی  نادر الروایہ ہے کہ مذکورہ صورت میں نکاح  منعقد ہی نہیں ہوتا، بہت سے مشایخ نے اس کو اختیار کیا اور اسی کے مطابق فتوی دیا ہے۔اور اس کی وجہ مشایخ کا ان نصوص وروایات سے انکار نہیں  جن نصوص وروایات سے عاقلہ وبالغہ عورت کے اختیار کا معلوم ہوتا ہے،  بلکہ انہوں نے ان سب نصوص وروایات کو تسلیم کرتے ہوئے  زمانہ کے بعض حالات کی بنا پر سداً للذرائع عدم انعقاد نکاح کا فتوی دیا ہے۔

خلاصہ یہ ہوا کہ مذکورہ دونوں روایات فقہاء احناف سے منقول ہیں ، اور دونوں پر زمانہ کے حالات کے موافق فتویٰ دیا گیا ہے۔

بالکل اسی طرح ہمارے برصغیر کے اکابر کے بھی اس سلسلے میں دونوں قسم کے فتویٰ موجود ہیں، مفتی  رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ ، حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ، مفتی عزیز الرحمن دیوبندی رحمہ اللہ اور مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ کے فتاویٰ بھی  ظاہر الروایۃ  کے موافق موجود ہیں کہ ایسا نکاح منعقد ہے، البتہ غیر کفو میں ہونے کی وجہ سے اولیاء کو  اولاد ہونے سے پہلے تک اعتراض کا حق حاصل ہے۔ دوسری طرف خود مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ ، اور مفتی عزیز الرحمن دیوبندی رحمہ اللہ کے نادر الروایہ کے مطابق بھی فتوے موجود ہیں۔ نیز مفتی اعظم پاکستان، سابق رئیس دارالافتاء جامعہ علوم الاسلامیہ ”مفتی ولی حسن ٹونکی رحمہ للہ“ نے بھی حالات کے اعتبار سے دونوں روایات کے مطابق فتوے  دیے ہیں، آپ نے جو حضرت مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمہ اللہ کا حوالہ نقل  کیا وہ بھی اسی  نادر الروایہ کے مطابق دیا گیا ہے۔

بعد ازاں دارالافتاء جامعہ علوم الاسلامیہ علامہ یوسف بنوری ٹاؤن میں  غور وخوض  اور مشورہ کے بعد  موجودہ حالات وزمانہ میں عاقلہ بالغہ کے غیر کفو میں از خود نکاح کرنے کی صورت میں ”ظاہر الروایہ“ کے مطابق فتوی دینے کا فیصلہ کیا گیا کہ ایسا نکاح منعقد ہوجائے گا، البتہ ولی کو بذریعہ عدالت اولاد ہونے سے پہلے تک فسخِ نکاح کا حق حاصل ہوگا، اس سلسلے میں جامعہ کے سابق رئیس درالافتاء مفتی محمد عبد السلام چاٹ گامی صاحب دامت برکاتہم  نے 5 جمادی الثانی 1418ھ کو اس پر ایک تفصیلی فتوی تحریر کیا جس پر جامعہ کے دارالافتاء کے تمام رفقاء نے تصدیقی دستخط  ثبت کیے، اور اس فتوی کے آخر میں ظاہر الروایہ کے مطابق فتوی دینے کی چند وجوہات ذکر کیں جن کو اختصاراً یہاں ذکر کیا جاتا ہے :

(1) عاقلہ وبالغہ لڑکی عورت نے جو نکاح بلااجازتِ ولی کیا ہے وہ اپنے اختیار اور ولایتِ شرعیہ کے تحت کیا ہے، اس کو اپنے  ذاتی امور اور معاملات وتصرفات کے بارے میں بحیثیت ایک انسان ہونے کے شرعی حق حاصل ہے۔

(2) عاقل ، بالغ کا ہر وہ تصرف جو خلافِ شرع نہ ہو تو صحیح اور درست ہے، اس اصول کے تحت عاقلہ بالغہ کو اپنے تصرفات کا اختیار ہونا لازم ہے۔

(3) یہ تصرف قرآن وسنت کے  مطابق ہے، اس نکاح کو نافذ قرار دینے میں قرآن پر عمل ہوتا ہے ورنہ اس کی مخالفت ہوتی ہے۔

(4) جن نصوص سے عاقلہ بالغہ کے نکاح کا اختیار ولی کو ہونے کا ثبوت ملتا ہے، وہ ولایت ندب واستحباب کے طور پر ہے نہ ولایتِ اجبار، اصل ولایتِ نکاح خود عاقلہ بالغہ کو حاصل ہے۔

(5) عاقلہ ، بالغہ اگر کفو میں نکاح کرتی ہے تو ایسا نکاح بالاتفاق منعقد اور لازم ہوجاتا ہے،  کیوں کہ اس کو اپنے نکاح کا اختیار ہے، اس نے خلافِ اصول نکاح کرکے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جواس کے نکاح پر اثر انداز ہو، ہاں اس نے ولی کی بے قدری کی، ایک ناپسندیدہ کام کیا، اسی طرح اگر غیر کفو میں نکاح کرے  تو بھی نکاح منعقد ہوجائے گا، البتہ چوں کہ اس میں ولی کا حقِ کفو  ضائع ہوا ہے ، لہذا اگر وہ چاہے تو اسے بذریعہ عدالت فسخ کراسکتا ہے۔

(6) ائمہ احناف  امام اعظم ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ کی یہی ظاہر الروایہ ہے، ہم امام اعظم کے مقلد ومتبع ہیں، جب کہ یہ نصوص وروایات سے مؤید بھی ہے۔

(7) احناف کے متونِ اربعہ میں اسی ظاہر الروایہ کو اختیار کیا گیا ہے۔

(8)  شروحِ فقہ ، اور فتاوی میں ظاہر الروایہ اور نادر الروایہ کا اختلاف نقل کرے اکثر مشایخ کا فتوی نادر الروایہ پر منقول ہے، جب کہ بعض دوسرے مشایخ کا فتوی ظاہر الروایہ پر بھی نقل کیا گیا ہے۔

(9)ہمارے اکابر علماء ومفتیان کرام نے بھی ظاہر الروایہ پر فتوی دیا ہے۔

(10) مشایخ نے تبدلِ زمان کی بنا پر جن وجوہ کی وجہ سے  نادر الروایہ پر فتوی دیا تھا، اب موجودہ زمانہ میں وہ باقی نہیں ہیں، مثلاً پہلے زمانہ میں عدالتی امور کے بارے میں لوگ ناواقف تھے، اب نہ صرف والدین عدالتوں سے واقف ہیں، بلکہ خود عورتیں بھی دنیوی تعلیم عام ہونے کی وجہ سے  عدالت اور عدالتی امور سے واقف ہوگئیں ہیں، اور جج بھی فیملی معاملات میں عموماً عورتوں کی رعایت کرتے ہیں، لہذا عورتوں پر ظلم کا اندیشہ بھی نہیں ہے۔

(11) رہا یہ کہ فسخِ نکاح کے لیے عدالت جانا ولی کے لیے ایک مستقل ضرر ہے ، تو نکاح باطل قرار دینے میں اس سے زیادہ ضرر ہے، مثلاً غیر کفو میں جو عاقلہ بالغہ عورتیں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیتی ہیں،  تو اکثر وبیشتر ان کے اپنے شوہروں سے ازدواجی تعلقات قائم ہوجاتے ہیں، اگر نکاح کو باطل قرار دیا جائے تو ان کے تعلقات کو ناجائز اور زنا کہنا پڑے گا،   اور بسا اوقات اولاد بھی پیدا ہوجاتی ہے تو اس  بچے کو حرامی کہنا پڑے گا،جب کہ زوجین نے شرعی ضابطہ کے مطابق نکاح کیا ہے، نیز  نکاح کو باطل قرار دینے کی صورت میں عورت کو حقِ مہر بھی نہیں ملے گا،اس کی قیمتی زندگی کو ویسے ہی ضائع کرنا لازم آئے گا، اس لیے ولی کے ضرر کو کم درجے کا ضرر قرار دے کر  نکاح کو منعقد تسلیم کرنا پڑے گا اور اسی پر فتوی دینے کو انسب اور اسلم قول مانا جائے گا،یہی وجہ ہے کہ  صاحبِ بدائع لکھتے ہیں:

” عاقلہ بالغہ کے نکاح کو نافذ کرنے میں اگرچہ ولی کا ضرر ہوتا ہے ، مگر عدم نفاذ میں اس سے زیادہ ضرر لازم آتا ہے“۔ 

"وإن تزوجت من غير كفء ففي النفاذ إن كان ضرر بالأولياء وفي عدم النفاذ ضرر بها بإبطال أهليتها، والأصل في الضررين إذا اجتمعا أن يدفعا ما أمكن، وههنا أمكن دفعهما بأن نقول بنفاذ النكاح دفعاً للضرر عنها". (بدائع الصنائع  2/ 249)

(مسئلہ کی مزید تفصیل کے لیے مکمل فتوی ،جواہر الفتاوی 3/269، (مفتی محمد عبد السلام چاٹ گامی صاحب) میں ملاحظہ فرمائیں) فقط واللہ اعلم
 


فتوی نمبر : 144004200498

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے