بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 شوال 1441ھ- 28 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

ظہر کی نماز کب پڑھنی چاہیے؟


سوال

ظہر  کی نماز کیا دو مثل میں پڑھنا چاہیے؟  یا  ایک مثل تک وقت ہے؟

جواب

ظہر  کی نماز کا آخری وقت مثلِ ثانی کے آخر تک ہوتا ہے، یعنی جب ہر چیز کا سایہ، اصلی سایہ کے علاوہ اس چیز کے دو مثل ہوجائے، اور دو مثل کے اندر پڑھی گئی نماز بھی ادا ہی ہوگی۔ لیکن احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مثلِ ثانی شروع ہونے سے پہلے پہلے ظہر کی نماز پڑھ لی جائے۔

الفتاوى الهندية (1/ 51):
ووقت الظهر من الزوال إلى بلوغ الظل مثليه سوى الفيء. كذا في الكافي وهو الصحيح. هكذا في محيط السرخسي والزوال ظهور زيادة الظل لكل شخص في جانب المشرق. كذا في الكافي وطريق معرفة زوال الشمس وفيء الزوال أن تغرز خشبة مستوية في أرض مستوية فما دام الظل في الانتقاص فالشمس في حد الارتفاع وإذا أخذ الظل في الازدياد علم أن الشمس قد زالت فاجعل على رأس الظل علامة فمن موضع العلامة إلى الخشبة يكون فيء الزوال فإذا ازداد على ذلك وصارت الزيادة مثلي ظل أصل العود سوى فيء الزوال يخرج وقت الظهر عند أبي حنيفة - رحمه الله - كذا في فتاوى قاضي خان وهذا الطريق هو الصحيح هكذا في الظهيرية قالوا الاحتياط أن يصلي الظهر قبل صيرورة الظل مثله ويصلي العصر حين يصير مثليه ليكون الصلاتان في وقتيهما بيقين".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200901

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے