بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

ظہر سے پہلے حیض سے پاک ہوگئی تو روزہ کی نیت کرسکتی ہے؟


سوال

اگر حیض ظہر سے پہلے ختم ہو جائے, اور غسل کر لیا جائے تو کیا ایسی صورتِ حال میں روزہ رکھا جاسکتا ہے؟

جواب

اگرحائضہ عورت نصف النہار سے پہلے پاک ہوجائے اور غسل کرلے تو نصف النہار سے پہلے پاک ہونے اور غسل کرلینے کے باوجود اس دن روزے کی نیت کرنا درست نہیں، تاہم بقیہ دن روزے داروں  کی مانند گزارنا لازم ہے اور بعد میں اس دن کی قضا بھی لازم ہے۔ جیساکہ الدر المختار (2 / 409)میں ہے:
 "ولو نوى الحائض والنفساء لم يصح أصلاً للمنافي أول الوقت وهو لايتجزى".

حاشية رد المحتار على الدر المختار (2 / 409) میں ہے:
"(قوله: ولو نوى الحائض والنفساء ) أي قبل نصف النهار إذا طهرتا فيه، (قوله:لم يصح أصلاً ) أي لا فرضاً ولا نفلاً، شرنبلالية، (قوله: للمنافي الخ ) أي فإن كلاًّ من الحيض والنفاس مناف لصحة الصوم مطلقاً؛ لأن فقدهما شرط لصحته ولا صوم عبادة واحدة لايتجزى، فإذا وجد المنافي في أوله تحقق حكمه في باقيه، وإنما صح النفل ممن بلغ أو من أسلم على قول بعض المشايخ؛ لأن الصبا غير مناف أصلاً للصوم، والكفر وإن كان منافياً لكن يمكن رفعه بخلاف الحيض والنفاس ، هذا ما ظهر لي ..." الخ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200742

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں