بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1441ھ- 05 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

ظالم کے لیے بد دعا


سوال

کیا سگے رشتہ دار  کے لیے اس طرح سے بد دعا کر سکتے ہیں کہ اے اللہ اگر اس کے مقدر میں ہدایت ہے تو ہدایت دے دیں اور مقدر میں ہدایت نہیں ہے تو  عبرت کا نشان بنا دے؟  یہ اس رشتہ دار سے متعلق پوچھا جارہا جس کے مظالم عرصہ 30 سال سے چل رہے ہوں، اور  اس نے زبردستی اپنے تعلقات کی بنا پر جائے داد پر قبضہ کرلیا ہو اور اس کے مظالم کا سلسلہ جاری ہو، اور اس کے بارے میں بدعا کرنے والا ہراعتبار  سے اپنی کم زوری کی بنا پر مجبوراً  ایسا کر رہاہو!

جواب

ظالم کے ظلم کی وجہ سے اس کے لیے بد دعا کرنا جائز ہے، البتہ اسے معاف کرنا افضل ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص کی طرف سے ناقابلِ برداشت تکالیف پہنچ رہی ہیں تو  ذکر کے گئے الفاظ سے ظالم کے لیے بد دعا کرنا جائز ہے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8 / 3206):
"(وعن علي - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (إياك ودعوة المظلوم) أي: ولو ذميا (فإنما يسأل الله حقه) أي: سؤال محاسبة ومطالبة (وإن الله لا يمنع ذا حق حقه) أي: بل يعطي كل ذي حق حقه، فإن قوله حق ووعد صدق وفعله عدل، ثم بعده فضل".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144107200339

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں