بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

طوافِ زیارت میں رمل


سوال

1- طوافِ زیارت میں رمل کریں گے یا نہیں جب کہ عموماً احرام اتار لیا جاتا ہے؟  وہاں لوگ منع کرتے ہیں۔

2- استلام میں اشارے کے بعد چومنے کے بارے میں بتادیں!

جواب

1- اگر احرام کھول کرکپڑے پہن کر طوافِ زیارت کیا جارہا ہے، اور بعد میں سعی کرنے کا ارادہ ہے تو اضطباع نہیں ہوگا، صرف رمل کیا جائے گا۔اور اگر حج کی سعی پہلے کرچکا ہے، اور احرام کھولنے کے بعد طوافِ زیارت کررہا ہے، تو نہ رمل کرے گا اور نہ ہی اضطباع کیا جائے گا؛ کیوں کہ رمل و اضطباع صرف اسی طواف میں ہوتا ہے جس کے بعد سعی کرنے کاارادہ ہو۔

2- اشارے سے استلام کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ حجر اسود کی جانب رخ کرکے اپنے ہاتھوں کو  چہرے کے آگے بڑھا کر اس طرح اشارہ کرے کہ ہتھیلی کی پشت چہرے کی طرف ہو اور ہتھیلی کا اندرونی حصہ حجر اسود کی طرف ہو اور تکبیر و تہلیل، اللہ کی حمد کرے اور  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، پھر اپنی ہتھیلیوں کو بوسہ دے لے۔
"فاستقبل الحجر مکبرًا مهللًا رافعًا یدیه کالصلاة و استلمه بکفیه وقبّله بلا صوت و هل یسجد علیه؟ قیل: نعم بلا ایذاء؛ لأنه سنة وترك الإیذاء واجب فإن لم یقدر یضعهما ثم یقبلهما أو إحداهما وإلا یمکنه ذلك یمسّ بالحجر شیئًا في یده ولو عصا ثم قبله أي الشيء وإن عجز عنهما أي الاستلام والإمساس استقبله مشیرًا إلیه بباطن کفیه ثمّ یقبل کفیه أي بعد الاشارة المذکورة، قال في الفتح: ویفعل في کل شوط عند الرکن الأسودما یفعله في الابتداء". (شامي:۳؍۵۰۴-۵۰۵)

"فیطوف سبعة أشواط بلا رمل فیه وسعى بین الصفا والمروة بعده إن قدم السعي وقع معتداً به و إلا رمل وسعی الخ، و إن قدّم السعي لا الرمل سقط الرمل؛ لأنّ الرمل إنما شرع في طواف بعده سعی الخ، و أما الاضطباع فساقط مطلقاً في هذا الطواف سواء سعی قبله وبعده؛ لأنه قد تحلل من إحرامه وقد لبس المخیط، والاضطباع في حال بقاء الإحرام الخ، ومفاده أنه لو قدمه علی الحلق سنّ الاضطباع فیه إن کان أخّر السعي إلیه". (غنیة الناسك ۱۷۷،  درمختار مع الشامي ۳؍۵۳۷) فقط و الله أعلم


فتوی نمبر : 144010200193

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں