بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 14 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طلبہ کے بیانات کی ویڈیو بنانا


سوال

 عبداللہ ایک اسلامک انسٹیٹیوٹ میں انگریزی ٹیچر ہے،  انسٹیٹیوٹ والوں کا کہنا ہے کہ آپ طلبہ  کے بیانات کی ویڈیوز بناکر یوٹیوب پر اَپ لوڈ کرو،  کیا اسلام میں اس کی اجازت ہے؟

جواب

شریعتِ  مطہرہ میں کسی شدید ضرورت کے بغیر جان دار  کی تصویر کشی ناجائز اور حرام ہے، اور جان دار  کی ویڈیو بھی تصویر کے حکم میں ہے، لہذا عبد اللہ کے لیے  طلبہ کے بیانات کی ویڈیو بنانا اور اس کو اَپ لوڈ کرنا جائز نہیں ہے، ہاں جان دار کی تصویر  کے بغیر ویڈیو  بناکر طلبہ کی آڈیو ریکارڈنگ یوٹیوب پر اَپ لوڈ کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010201250

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے