بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 صفر 1442ھ- 25 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق دے کر رجوع کرنا


سوال

میں نے معمولی بحث کے نتیجے میں اپنی بیوی کے کہنے پر اُسے ریکارڈنگ میں طلاق بھیج دی تھی، ہم دونوں مختلف شہروں میں تھے، میں نے سوچا تھا ابھی اس کی مرضی پر طلاق بھیج دیتا ہوں، پھر چند دن میں رجوع کر لوں گا اور میں نے رجوع ہی کر لیا تھا چند دن میں،  اب میری بیوی حامل ہے اور مجھے یہ فکر ہے کہ کہیں اس وقت طلاق تو واقع نہیں ہوگئی تھی جب کہ میری نیت بالکل بھی طلاق کی نہیں تھی،  برائے مہربانی راہ نمائی فرمادیں!

جواب

آپ کے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ آپ نے بیوی کو ریکارڈنگ میں کتنی طلاقیں بھیجی تھیں، اصولی جواب یہ ہے کہ آپ نے اپنی بیوی کو ریکارڈنگ میں جتنی طلاقیں بھیجی تھیں وہ واقع ہوچکی ہیں، اگر ایک یا دو طلاق رجعی بھیجی تھیں تو عدت کے دوران رجوع بھی درست تھا، اور اگر تین بھیجی تھیں تو بیوی حرمتِ مغلطہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے، رجوع کی گنجائش نہیں۔ اس لیے دونوں کا ساتھ رہنا شرعاً ناجائز وحرام ہوگا۔

واضح رہے کہ حمل کی حالت میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقةً رجعيةً أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية". (الباب السادس في الرجعة، 1/470، ط: رشيدية)

وفيه أيضًا:

"وإن كان الطلاق ثلاثًا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجًا غيره نكاحًا صحيحًا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية. ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولًا بها أو غير مدخول بها، كذا في فتح القدير. ويشترط أن يكون الإيلاج موجبًا للغسل وهو التقاء الختانين، هكذا في العيني شرح الكنز. أما الإنزال فليس بشرط للإحلال". (كتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، 1/673) فقط والله تعالى أعلم


فتوی نمبر : 144105200431

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں