بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 محرم 1442ھ- 19 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بعد عدت کاحکم


سوال

میں شادی شدہ عورت ہوں،  سسرال میں لڑائی ہونے کی وجہ سے ایک سال سے میں میکے میں موجود ہوں اور اب میرا خاوند مجھے طلاق دینے والا ہے اور میری کوئی اولاد نہیں ہوئی ابھی تک,  کیا میں طلاق ہونے کے فوراً  بعد شادی کر سکتی ہوں یاعدت گزارنا لازمی ہے میرے لیے ؟ اگر عدت لازمی ہے میرے لیے تو پھر عدت کتنے دن ہے؟ 

جواب

واضح رہے کہ شوہر سے دور رہنے اور اولاد نہ ہونے کے باوجود اگر آپ کے شوہر آپ کو طلاق دیتے ہیں تو آپ پر عدت گزارنا لازم ہوگا۔ چناں چہ اگر آپ کے شوہر  تین سے کم طلاق دے کر عدت میں رجوع نہیں کرتے یا تین طلاق دیتے ہیں تو  طلاق کے بعد سے آپ کو  عدت گزارنی ہوگی ،  دوسری جگہ نکاح عدت کے بعد کرنا جائز ہوگا۔

عدت  کی تفصیل یہ ہے کہ اگر آپ  طلاق کے وقت حمل سے نہ ہوں تو عدت پوری تین ماہواریاں  ہیں،  اور اگر آپ طلاق کے وقت حمل سے تو ہوں  تو اس صورت  میں عدت وضع حمل (بچہ جننے) تک ہوگی۔
وفي الدر المختار:
"(وهي في) حق (حرة) ولو كتابيةً تحت مسلم (تحيض لطلاق) ولو رجعيًّا (أو فسخ بجميع أسبابه) ومنه الفرقة بتقبيل ابن الزوج نهر (بعد الدخول حقيقة، أو حكمًا) أسقطه في الشرح، وجزم بأن قوله الآتي " إن وطئت " راجع للجميع (ثلاث حيض كوامل)". (3/ 504ط: سعيد)
وفي الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
"(و) في حق (الحامل) مطلقًا ولو أمةً، أو كتابيةً، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنًا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع، جواهر الفتاوى، (وضع) جميع (حملها).
 (قوله: مطلقًا) أي سواء كان عن طلاق، أو وفاة، أو متاركة، أو وطء بشبهة، نهر". (3/ 511ط:سعيد)
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200577

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں