بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 شوال 1441ھ- 31 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق کی صورت میں جہیز وتحائف/ عدت میں نفقہ کا حکم


سوال

1-  لڑکی کی عمر لڑکے سے تین سال بڑی ہونے کی وجہ سے اور شادی کے بعد پسند نہ آنے کی وجہ سے لڑکی کو طلاق دے دی ہے،  معلوم یہ کرنا ہے کہ لڑکی کو شادی کے موقع پر دیے گئےتحائف جوکہ شوہر، ساس، نند اور جٹھا نی نے زیورات کی صورت میں دیے تھے جو کہ لڑکی کی تحویل میں رہے، طلاق دینے سے کچھ دن قبل لڑکے کے کہنے پر یہ تحائف لڑکے کی والدہ کے پاس رکھوا دیے تھے، آیا ان تمام تحائف پر کیا لڑکی کا حق ہے ؟ یا لڑکی کو نہ دینے کے مجاز ہیں؟

2- کیا لڑکے کے طلاق دینے کی صورت میں لڑکا حقِ مہر اور عدت کا خرچہ دینے کا پابند ہے؟ نیز عدت کا خرچہ کتنا ہوگا؟

3-  شرعی طور پر لڑکے نے لڑکی کے سامنے طلاق کے الفاظ استعمال ادا نہیں کیے ہیں، لڑکے نے اسٹامپ پیپر ( stamp papers ) پر دو انجان گواہوں کی موجوگی میں طلاق کے کاغذات بھیج دیے ہیں، آیا طلاق واقع ہوگی؟

جواب

1۔ جو سونا دیا گیا تھا اگر وہ تحفہ کی صراحت کے ساتھ دیا گیا تھا تو اس صورت میں اس پر لڑکی کی ملکیت ہوگی، واپسی کے مطالبہ کا اختیار نہ ہوگا، اور اگر دیتے وقت فقط استعمال کے لیے دینے کی صراحت کی گئی ہو تو اس صورت میں لڑکے والوں کو طلاق کے وقت مذکورہ سونے کا مطالبہ کرنے کی اجازت ہوگی.اور اگر سونا دیتے وقت کسی بات کی تصریح نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں لڑکے کے خاندان کے عرف کا اعتبار ہوگا، پس اگر جدائی کی صورت میں لڑکے کے گھرانے میں سونا واپس کرنے  اور لینے کا رواج ہو تو اسی کے مطابق عمل کیا جائے گا،  تاہم اگر لڑکے کے خاندان میں اس حوالے سے کوئی رواج نہ ہو تو عرف عام کا اعتبار کرتے ہوئے سونے کو لڑکی کی ملکیت قرار دیا جائے گا اور لڑکے والوں کو مطالبہ کی اجازت نہ ہوگی۔ 

2- عدت ختم ہونے تک مطلقہ کا اپنے شوہر کے گھر میں رہنا لازم ہے، اور اس دوران عدت ختم ہونے تک کا نان ونفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے۔ میاں بیوی کی حیثیت مدِّ نظر رکھتے ہوئے خرچہ دینا ہوگا، یا باہمی رضامندی سے جو مقدار طے کرلیں۔

الفتاوى الهندية، کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات ، الفصل الثالث في نفقة المعتدة، (1/ 557) الناشر: دار الفكر:

’’المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعياً أو بائناً، أو ثلاثاً، حاملاً كانت المرأة، أو لم تكن‘‘.

3- طلاق کے الفاظ اگر زبان سے ادا نہ کرے، کسی سے لکھواکر دستخط کردے یا خود لکھ دے تب بھی طلاق ہوجاتی ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200184

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے