بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق کا وسوسہ


سوال

مجھے بہت سے طلاق کے وسوسے آتے ہیں ،جس کی وجہ سے میں ہر وقت ٹینشن میں رہتاہوں، آپ حضرات سے اس بارے سوال کرتا ہو ں:

انگریزی لفظ "Go" جس کا اردو ترجمہ "جاؤ" ہے، میں طالب علم ہونے کی وجہ سے انگریزی بھی سیکھتا ہوں  اور میں یہ بھی جانتا ہو کہ اردو میں لفظ ’’جاؤ ‘‘،  کنایات میں سے ہے، سوال یہ کہ اس انگریزی لفظ’’Go‘‘  کسی بیان میں کوئی مبلغ نے استعمال کیا ، جس وقت بیان سنا اس وقت بیوی کے بارے سوچ میں تھا ، جب ہی اس لفظ کو سنا تو وسوسہ آگیا کہ کیا میری طرف سے سننے کے وقت یہ لفظ استعمال ہوگیا؟ پہلے ہی سےتو  وسوسہ زیادہ ہے، اب اوربڑھ گیا، سوچنا زیادہ ہوگیا، انسان جس طرح بہت ہلکی آواز سے گفتگو کرتے ہیں، اس طرح بھی آواز نہیں ہوتی، اس لفظ اور بیوی اور طلاق کے بارےمیں سوچتے  ہی ذہن میں آتا ہےکہ یہ لفظ بول دو تو اس وقت جب کہ زبان کا آخری حصہ حرکت دیتی ہے اور کچھ آواز محسوس ہوتی ہے، تو معلوم ہوتا کہ یہ انگریزی لفظ میری طرف سے استعمال ہوگیا ہے، اس کے بعد شک پیدا ہوجاتا ہے کہ حقیقۃً یہ لفظ ادا ہوا ہے یا نہیں؟  کیا یہ آواز اس لفظ کی ہے یااور کسی اور لفظ کا ؟ کبھی کبھی محسوس ہو تا ہے کہ سانس کے ساتھ یہ لفظ ادا ہوگیا، بعد میں ہی شک پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ اس لفظ کی آواز ہے یا سانس کی آواز ؟ کبھی کبھی بیوی سامنے ہوتی ہے اور دل میں آتا ہے کہ اس لفظ کو طلاق کی نیت سے اس کو بول دے تو اس وقت زبان کے آخری حصہ حرکت دیتی ہے اور محسوس ہوتا کہ یہ لفظ استعمال ہوگیا ہے،  بعد میں شک آجاتا ہے ؟

جواب

لفظ ’’Go‘‘ (جاؤ) سنتے وقت بیوی کے تصور سے طلاق واقع نہیں ہوئی، اسی طرح اس لفظ کی  ادائیگی میں شک ہونے کی وجہ سے بھی طلاق واقع نہیں ہوئی۔ نیز بیوی سامنے ہو اور دل میں آئے کہ اس لفظ کو طلاق کی نیت سے کہہ دوں اور زبان سے کہا نہیں جاتا تو طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

آپ طلاق کے معاملات میں شک نہ کریں اور آئندہ کے لیے وساوس اور شکوک و شبہات کو قریب آنے نہ دیں، یہ  بیماری آگے بڑھ کر نفسیاتی امراض کا باعث بنتی ہے، اس لیے جب بھی کوئی ایسا شک یا وسوسہ آئے تو اسے جھٹک کر اپنے کام میں مشغول ہوجائیں اور یہ دعا بکثرت پڑھیں:

"اللَّهُمَّ أَلْهِمْنِي رُشْدِي، وَأَعِذْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي".  فقط و اللہ اعلم


فتوی نمبر : 144103200639

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں