بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 صفر 1442ھ- 23 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق نامہ پر دستخط سے طلاق


سوال

بیوی شوہر سے ناراض ہو کر اپنے گھر چلی گئی، شوہر سے کہا: نہیں آتی،  وکیل کو بلایا میں طلاق چاہتی ہوں، وکیل نے ایک تحریر تیار کی جس میں لکھا تھا: پہلے مہینے میں ایک طلاق دی گئی۔ دوسرے مہینے میں دوسری طلاق دی گئی،  تیسرے مہینے میں تیسری طلاق دی گئی، پھر عدالت میں شوہر کو بلایا، ساری تحریر پڑھ کر سنائی گئی، شوہر نے دستخط کر دیے، زبان سے اقرار نہیں کیا، دستخط کردیے، دوسری صورت زبان سے بھی اقرار کر لیا اور دستخط بھی کردیے، شوہر بھی اقرار کر رہا ہے مذکورہ بالا واقعہ ہوا ہے،  شوہر نے اس وقت طلاق کے ارادے سے ہی دستخط بھی کیے، اب طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟  کتنی طلاق واقع ہوئی؟ رجعت کا حق باقی ہے یا نہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ جس طرح طلاق کا لفظ بولنے سے طلاق واقع ہوتی ہے اسی طرح لکھنے سے یا لکھے ہوئے پر دستخط  کرنے سے بھی واقع ہوجاتی ہے، نیز طلاق کا اقرار کرنا بھی طلاق شمار ہوتا ہے؛ لہذا شوہر  کو  جب معلوم تھا کہ اس اسٹامپ پیپر پر  تین طلاقیں لکھی ہوئی  ہیں اور اس پر دستخط کردیے یا دوسری صورت میں زبان سے بھی اقرار کیا اور دستخط بھی کیے تو  (دونوں صورتوں میں) بیوی پر تین طلاق واقع ہوچکی ہیں؛ لہذا  میاں بیوی دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے، اب نہ دورانِ عدت رجوع جائز ہے، اور نہ ہی تجدیدِ نکاح کی اجازت ہوگی، عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

"عن حماد قال: إذا کتب الرجل إلی امرأته -إلی- أمابعد! فأنت طالق فهي طالق، وقال ابن شبرمة: هي طالق". (المصنف لابن أبي شیبة، کتاب الطلاق، باب في الرجل یکتب طلاق امرأته بیده، مؤسسة علوم القرآن ۹/۵۶۲، رقم: ۱۸۳۰۴)

فتاوی شامی میں ہے:

’’ولو أقر بالطلاق كاذباً أو هازلاً وقع قضاءً لا ديانةً‘‘.  (3 / 236،  کتاب الطلاق، ط: سعید) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144106200260

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں