بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1441ھ- 10 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق لے لو، خلع لے لو کہنے کا حکم


سوال

اگر کوئی شوہر  اپنی بیوی کو بار بار  یہ  کہے کہ طلاق لے لو، خلع لے لو، گھر سے چلی جاؤ۔   لیکن براہِ راست طلاق نہ دے، صرف دھمکی دے تو طلاق ہو جاتی ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ڈرانے اور دھمکانے کی نیت سے یوں کہے: ’’طلاق لے لو، خلع لے لو، گھر سے چلی جاؤ‘‘.  اور ان الفاظ سے محض دھمکانے کی نیت ہو، طلاق کی نیت نہ ہو تو ان الفاظ سے طلاق واقع نہ ہو گی۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 300):
"ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيراً (على نية) للاحتمال، والقول له بيمينه في عدم النية، ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم، فإن نكل فرق بينهما، مجتبى.
(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط)".
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200619

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں