بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1441ھ- 04 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

طلاق رجعی کی عدت میں مزید دو طلاقیں دینا


سوال

میرے شوہر نے مجھے  9 اپریل 2019 کو ایک طلاق دے کر گھر سے نکال دیا تھا اور رجوع بھی نہیں کیا، دورانِ عدّت اور جب رجوع کا وقت گزر گیا تو 3طلاق بھیج دیں، (عدّت کے دوران 2 حیض مکمل ہوچکے تھے اور تیسرا حیض آیا ہوا تھا جب مجھے3 طلاق دیں۔)  جب تین طلاق دی گئیں تو میں حالتِ حیض کے یوم میں تھی۔ ایسی صورتِ حال میں جب رجوع کا وقت گزر گیا تھا تو طلاقِ بائن واقع ہوئی ؟

اور اب جدید نکاح کی گنجائش باقی ہے؟ یا خدا نخواستہ تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں؟ میں دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہوں۔ اور واپس اپنے گھر جانا چاہتی ہوں،  اگر دوبارہ نکاح کی کوئی گنجائش باقی ہے تو میرے شوہر بھی دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں، ہماری 1سال6 ماہ کی بچی بھی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ  اگر شوہر نے بیوی کو طلاق کے صریح الفاظ کے ساتھ ایک یا دو طلاق دی تو ایسی طلاق کو ''طلاقِ رجعی'' کہتے ہیں، طلاقِ رجعی کے بعد  شوہر کے لیے اپنی بیوی سے  عدت (یعنی تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو) میں رجوع  کرنے کا حق ہوتا ہے، اگر عدت میں قولاًوفعلاً  رجوع کرلیا یعنی زبان سے یہ کہہ دیا کہ میں نے رجوع کرلیا ہے یا ازدواجی تعلقات قائم کرلیے تو اس سے رجوع درست ہوجائے گا  اور نکاح برقرار  رہے گا، اور اگر شوہر نے عدت(یعنی تین ماہواریوں)میں  رجوع نہیں کیا تو عدت گزرتے ہی طلاقِ بائنہ سے نکاح  ٹوٹ جائے گا، میاں بیوی کا تعلق ختم ہوجائے گا۔اور عدت گزرنے کے بعد مزید طلاق دینے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، البتہ طلاقِ  رجعی کی صورت میں اگر عورت عدت میں تھی، چاہے تیسرا حیض گزررہاہو اس صورت میں اگر شوہر مزید ایک یا دوطلاقیں دے دیتاہے تو وہ واقع ہوجائیں گے؛ لہذا جو صورت آپ نے ذکر کی ہے اس میں آپ کے شوہر نے ایک طلاق دے کراس کی عدت کے اندر اندر آپ کو تین طلاقیں مزید دی ہیں،جس سے مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔ اور میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام ہوچکے ہیں ،لہذا اب  رجوع بھی جائز نہیں ہے،  اور تجدیدِ نکاح کی بھی اجازت نہیں ہے۔

عدت گزرنے کے بعد آپ دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہیں، آپ کا دوسری جگہ نکاحِ صحیح ہوجائے اور دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ وظیفہ زوجیت ادا کرنے کے بعد از خود طلاق دے دے، تو اس کی عدت گزارنے کے بعد آپ کے لیے سابق شوہر سے نکاح کی اجازت ہوگی۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200549

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں