بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الثانی 1441ھ- 07 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

طلاق دیتا ہوں یا دے رہا ہوں کہنے کا حکم


سوال

’’طلاق دیتا ہوں‘‘ یا ’’دے رہا ہوں‘‘،   کیا ان الفاظ سے طلاق ہو جائے گی؟

جواب

اردو زبان میں "میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں" اور "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"، یہ دونوں جملے طلاق واقع کرنے کی نیت سے بھی بولے جاتے ہیں اور طلاق کی دھمکی دینے کے لیے بھی بولے جاتے ہیں؛ لہذا اگر ان دونوں جملوں میں سے کوئی جملہ طلاق واقع کرنے کی نیت سے بولا گیا ہو تو اس سے طلاق واقع ہوجائے گی ۔ اگر ان جملوں سے طلاق واقع کرنے کی نیت نہ ہو بلکہ صرف دھمکانے کی نیت ہو تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

"وكذا المضارع إذا غلب في الحال مثل أطلقك كما في البحر". (فتاوی شامی، ۳/۲۴۸، سعید)

في المحيط: "لو قال بالعربية: أطلق، لايكون طلاقاً إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقاً". (الفتاوی الهندیة، ۱/۳۸۴، رشیدیه) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012200222

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے