بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

دارالافتاء

 

صرف کاغذات میں پلاٹ بیٹے کے نام کرنے کی صورت میں زکاۃ کا حکم


سوال

ایک پلاٹ والد نے بیٹے کے نام کر دیا ہے، لیکن اس کو مالک نہیں بنایا تو کیا قربانی اور زکاۃ بیٹے پر ہو گی یا والد پر؟

جواب

اگر والد نے صرف کاغذات میں پلاٹ اپنے بیٹے کے نام کیا ہے اور ملکیت والد ہی کی ہے تو اس پلاٹ کی زکاۃ والد ہی پر لازم ہو گی، بیٹے پر لازم نہیں ہو گی. نیز قربانی کے مسئلہ میں بھی صاحبِ نصاب ہونے میں یہ پلاٹ والد ہی کا شمار ہو گا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144010200392

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے