بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 شعبان 1441ھ- 29 مارچ 2020 ء

دارالافتاء

 

صرف رقم بھیجنے کے لیے ایزی پیسہ اکاؤنٹ استعمال کرنے کا حکم


سوال

میں ایزی پیسہ اکاؤنٹ استعمال کرتا ہوں،  لیکن جس سم پر اکاؤنٹ بنایا ہے وہ نمبر میں استعمال نہیں کرتا وہ بند ہی رہتا ہے تو کیا میں اکاؤنٹ استعمال کرسکتا ہوں،  صرف اماؤنٹ(رقم)  بھیجنے کے لیے؟

جواب

جواب سے پہلے بطورِ تمہید یہ بات واضح رہے کہ ہماری معلومات کے مطابق ’’ایزی پیسہ موبائل اکاؤنٹ‘‘  بینک اکاؤنٹ کی طرح ایک اکاؤنٹ ہے، جس کے اکاؤنٹ ہولڈر کو لمپنی کی طرف سے اپنے اکاؤنٹ کی بنیاد پر مختلف سہولیات اور خدمات کے حصول کا استحقاق ہوتا ہے، جو درج ذیل ہے:

1۔ بیمہ (انشورنش) اسی کا نام "خوش حال بیمہ اکاؤنٹ" ہے، (اس کے لیے عام حالات میں کوئی رقم متعین نہیں ہے، البتہ موت کے وقت اکاؤنٹ میں دو ہزار روپے موجود ہونا ضروری ہیں، نیز انشورنس کی یہ سہولت عمومی طور پر آدم جی انشورنس کمپنی کے ذریعے حاصل کی جائے گی)۔

2۔ بیمہ پالیسی لینے کی صورت میں اکاؤنٹ میں دو ہزار روپے برقرار رکھنے کی شرط پر متعین منٹ، متعین میسجز، اور انٹر نیٹ کی متعین مقدار مفت فراہم کی جائے گی۔

اس تمہید کے بعد صورتِ مسئولہ کا جواب یہ ہے کہ درج بالا پہلی صورت کے مطابق چوں کہ بیمہ پایا جارہا ہے، جو کہ ظاہر ہے سود، قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔

اور درج بالا دوسری صورت میں سہولت سے فائدہ حاصل کرنا بھی شرعاً جائز نہیں، کیوں کہ اکاؤنٹ میں جمع کی جانے والی مخصوص رقم قرض کے حکم میں ہے، گویا بطور قرض رقم جمع کروانے پر کمپنی اپنے تحت اکاؤنٹ کھولتی ہے، اور اس رقم پر موبائل کمپنی اکاؤنٹ میں دی جانے والی مخصوص رقم ظاہر کرتی ہے، جو کہ قرض کی رسید کی مانند ہے، لہٰذ امخصوص رقم اکاؤنٹ میں رکھے رہنے کی شرط کے ساتھ کمپنی کا اکاؤنٹ ہولڈر کو سہولیات مفت مہیا کرنا قرض پر مشروط نفع ہے، اور قرض پر نفع شریعتِ اسلامیہ کی نگاہ میں سود اور ناجائز ہے۔

لہٰذا ایسی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانا جائز ہی نہیں ہے، اور اگر کسی نے لاعلمی میں کھلوا لیا ہو تو اس پر لازم ہے کہ ایسے سودی معاہدے پر مشتمل اکاؤنٹ کو استعمال کرنے کے بجائے بند کردے اور ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے مکمل اجتناب کرے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وأحل الله البيع وحرم الربوا﴾ [البقرة: 275]

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الأشباه: كل قرض جر نفعًا فهو حرام". (ج5/ص166 ط: سعيد) (اعلاء السنن: 13/6446)

البحر الرائق میں ہے:

"ولايجوز قرض جر نفعًا". (6/122) فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144106201307

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے