بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ذو القعدة 1441ھ- 16 جولائی 2020 ء

دارالافتاء

 

صدقہ کا گوشت گھر والے کھاسکتے ہیں؟


سوال

صدقہ کا دیا ہوا گوشت گھر کھا سکتے ہیں؟

 

جواب

اگر صدقہ نفلی ہو تو  گھر والے کھا سکتے ہیں، لیکن اس صورت میں بھی صدقہ کرنے والے کو خود اپنا صدقہ استعمال نہیں کرناچاہیے۔

اور اگر صدقہ واجبہ (زکاۃ، صدقہ فطر، کفارہ، فدیہ) ہو تو غیر مستحقِ زکاۃ افراد نہیں کھا سکتے، اسی طرح صدقہ دینے والے شخص کے اصول (والدین، دادا،دادی، نانا، نانی وغیرہ) ،فروع (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی، وغیرہ) اور  شوہر یا بیوی بھی نہیں کھا سکتے ہیں۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 339)

'باب المصرف أي مصرف الزكاة والعشر، ۔۔۔ (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة.

وهو مصرف أيضاً لصدقة الفطر والكفارة والنذر وغير ذلك من الصدقات الواجبة، كما في القهستاني'۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 47)

' وكما لا يجوز صرف الزكاة إلى الغني لا يجوز صرف جميع الصدقات المفروضة والواجبة إليه كالعشور والكفارات والنذور وصدقة الفطر ؛ لعموم قوله تعالى: ﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَآءِ ﴾ [التوبة: 60] وقول النبي صلى الله عليه وسلم : «لا تحل الصدقة لغني» ؛ ولأن الصدقة مال تمكن فيه الخبث ؛ لكونه غسالة الناس ؛ لحصول الطهارة لهم به من الذنوب، ولا يجوز الانتفاع بالخبيث إلا عند الحاجة، والحاجة للفقير لا للغني.

وأما صدقة التطوع فيجوز صرفها إلى الغني ؛ لأنها تجري مجرى الهبة'۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق (2/ 263)

'وقيد بالزكاة ؛ لأن النفل يجوز للغني كما للهاشمي، وأما بقية الصدقات المفروضة والواجبة كالعشر والكفارات والنذور وصدقة الفطر فلا يجوز صرفها للغني ؛ لعموم قوله عليه الصلاة والسلام : «لا تحل صدقة لغني»، خرج النفل منها ؛ لأن الصدقة على الغني هبة، كذا في البدائع'۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908201021

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں