بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 23 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

صدقہ فطر عید یا رمضان سے پہلے ادا کرنے کا حکم


سوال

عید سے کتنے دن پہلے صدقہ فطر ادا کرنے سے وہ صدقہ فطر شمار کیا جائے گا؟  کچھ کہتے ہیں دو دن سے پہلے ادا کرو تو وہ شمار نہیں ہوگا اور کچھ کہتے ہیں رمضان سے پہلے ادا نہیں ہو سکتا؟

جواب

عید کے دن سے پہلے صدقہ فطر  کی ادائیگی کی صورت میں فقہاءِ کرام کے دو طرح کے اقوال کتبِ فقہ میں ملتے ہیں، ایک قول  یہ ہے کہ صدقۂ فطر رمضان المبارک کے مہینے میں کسی بھی دن دینا جائز ہے؛ البتہ رمضان المبارک سے قبل ادا کرنا درست نہ ہوگا، جب کہ دوسرا قول یہ ہے کہ صدقہ فطر کا حکم بھی زکاۃ  کی طرح ہے یعنی چاہے رمضان میں ادا کیا جائے یا رمضان سے بھی پہلے ادا کیا جائے دونوں صورتوں میں صدقہ فطر ادا ہوجائے گا۔

عبادات میں چوں کہ احتیاط کو پیشِ نظر رکھنا شریعت میں مطلوب ہے؛ اس لیے پہلے والے قول پر عمل کرنا چاہیے، چناں چہ صدقہ فطر عید سے پہلے رمضان میں جس وقت چاہے ادا کرلیا جائے،  البتہ رمضان سے پہلے ادا نہیں کرنا چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 367):

"(وصح أداؤها إذا قدمه على يوم الفطر أو أخره) اعتبارا بالزكاة والسبب موجود إذ هو الرأس (بشرط دخول رمضان في الأول) أي مسألة التقديم (هو الصحيح) وبه يفتى جوهرة وبحر عن الظهيرية لكن عامة المتون والشروح على صحة التقديم مطلقا وصححه غير واحد ورجحه في النهر ونقل عن الولوالجية أنه ظاهر الرواية. قلت: فكان هو المذهب.

 (قوله: اعتبارا بالزكاة) أي قياسا عليها. واعترضه في الفتح بأن حكم الأصل على خلاف القياس فلا يقاس عليه؛ لأن التقديم، وإن كان بعد السبب هو قبل الوجوب وأجاب في البحر بأنها كالزكاة بمعنى أنه لا فارق لا أنه قياس اهـوفيه نظر والأولى الاستدلال بحديث البخاري وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم أو يومين قال في الفتح وهذا مما لا يخفى على النبي صلى الله عليه وسلم بل لا بد من كونه بإذن سابق فإن الإسقاط قبل الوجوب مما لا يعقل فلم يكونوا يقدمون عليه إلا بسمع اهـ(قوله: فكان هو المذهب) نقل في البحر اختلاف التصحيح ثم قال لكن تأيد التقييد بدخول الشهر بأن الفتوى عليه فليكن العمل عليه وخالفه في النهر بقوله واتباع الهداية أولى. قال في الشرنبلالية قلت: ويعضده أن العمل بما عليه الشروح والمتون، وقد ذكر مثل تصحيح الهداية في الكافي والتبيين وشروح الهداية. وفي البرهان وابن كمال باشا وفي البزازية الصحيح جواز التعجيل لسنين رواه الحسن عن الإمام اهـوكذا في المحيط. اهـ.

قلت: وحيث كان في المسألة قولان مصححان تخير المفتي بالعمل بأيهما إلا إذا كان لأحدهما مرجح ككونه ظاهر الرواية أو مشى عليه أصحاب المتون والشروح أو أكثر المشايخ كما بسطناه أول الكتاب وقد اجتمعت هذه المرجحات هنا للقول بإطلاق فلايعدل عنه، فافهم".

تاتارخانیة (۳ : ۴۵۲)

"والمختار إذا دخل شهر رمضان یجوز وقبله لایجوز، وفي الظہیریة: وعلیه الفتویٰ". فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144008200709

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے