بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 12 نومبر 2019 ء

دارالافتاء

 

شیعہ کی افطاری قبول کرنا


سوال

شیعہ کی طرف سے افطار کا کیا حکم ہے؟ یا وہ پیسے دے اور ہم سامان لے لیں؟

جواب

قرابت دار، محلہ دار، شریک کار یا پڑوسی ہونے کے ناطے کوئی بھی انسان آپ کا اکرام کرے تو اس اکرام کو قبول کرنا شرعاً جائز ہے،  البتہ غیر مسلموں یا باطل فرقوں کی مذہبی تقریبات اور مجالس میں شرکت جائز نہیں ہے، آپ ﷺ  سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے یہود کی دعوت بھی قبول فرمائی تھی، اسی بنیاد پر اگر شیعہ حضرات سنی مسلمانوں کے ساتھ افطار یا نقد لین دین کی صورت میں اکرام کا معاملہ کریں تو اسے قبول کرنے کی گنجائش ہوگی، البتہ اگر اس موقع پر ان کے ہاں کوئی مذہبی مجلس ہو تو وہاں جاکر دعوت میں شرکت جائز نہیں ہوگی، بصورتِ جواز اگر کسی عارض کی وجہ سے طبیعت پر بوجھ ہو تو حسن خلقی کے ساتھ معذرت کرلیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 143908201158

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاشں

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے