بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

شوہر کے گھر میں عدت گزارنا


سوال

ایک شوہر اپنی بیوی کو ایک طلاق بھیج کر گھر نہیں آتا۔ اب اس کی بیوی اپنے بچوں کے ساتھ اس گھر میں رہ سکتی ہے، حق مہر کی وصولی تک ؟

جواب

مطلقہ عورت پر اسی مکان میں عدت گزارنا ضروری ہوتاہے، جس میں شوہر کے ساتھ اس کی رہائش ہوتی ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ عورت اپنی عدت کے مکمل ہونے تک تو  شوہر کے گھر میں رہے گی، اس کے بعد شوہر کے گھر میں محض مہر کی وصولیابی کے لیے شوہر کے گھر میں رکے رہنا درست نہ ہوگا۔ البتہ مہر کی وصولی کے لیے کوئی اور  جائز صورت اختیار کرے۔

"وتجب لمطلقة الرجعي والبائن والفرقة بلا معصیة ... والسکنی والکسوة إن طالت المدة".

وتحته في الشامیة:

"یلزم أن تلزم المنزل الذي یسکنان فیه قبل الطلاق". (الدر المختار مع الشامیة،کتاب الطلاق، باب النفقة، زکریا ۵/۳۳۳، کراچی ۳/۶۰۹)
"معتدة الطلاق والموت یعتدان في المنزل المضاف إلیهما بالسکنی وقت الطلاق والموت، ولایخرجان منه إلا لضروة لما تلونا من الآیة، والبیت المضاف إلیها في الآیة ما تسکنه سواء کان الزوج ساکنًا معها أو لم یکن". (البحر الرائق، رشیدیه، ۴/۱۵۴، زکریا ۴/۲۵۹)
فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144104200872

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے