بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 25 مئی 2020 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی وفات کی عدت میں عورت کا مدرسہ جانا


سوال

اگر کسی عورت کا شوہر مرگیا ہو  تو یہ عورت (عدت میں) مدرسہ جاسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے اس پر  اپنے شوہر  کے انتقال کے دن سے (قمری اعتبار سے) چار مہینے  دس دن عدت گزارنا لازم ہے، اور اس دوران  شدید ضرورت کے بغیر گھر سے نکلنا،  زیب وزینت، بناؤسنگھار  کرنا، خوش بو  لگانا، اور  نئے کپڑے وغیرہ پہننا جائز نہیں ہے، لہذا عدت کے دوران مذکورہ عورت کے لیے مدرسہ جانا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 536):
"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه". 
 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144012201987

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے